سندھ کے محنت کش جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں شرکت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ، مرکزی نائب صدر تشکیل احمد صدیقی، جنرل سیکرٹری محمد عمر شر، NLF ڈہرکی زون کے صدر عبد الفتاح ملک، جنرل سیکرٹری عبد الستار سیال، حیدرآباد زون کے صدر عبد القیوم بھٹی، سینئر نائب صدر مبین راجپوت، جنرل سیکرٹری اعجاز حسین، انفارمیشن سیکرٹری محمد احسن شیخ اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع عام کی تیاریوں اور محنت کشوں کو شرکت کروانے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا۔ جس میں سندھ بھر کے محنت کشوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور متفقہ فیصلہ کیا کہ جماعت اسلامی کے اجتماع عام سے ملک کی مظلوم عوام اور غریب محنت کشوں کو بڑی توقعات وابستہ ہیں کیونکہ ملک میں ہر ادارہ اور تنظیمیں اور تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے راگ الاپ رہی ہیں جبکہ ملک کی عوام کی کسی کو فکر نہیں ہے، ملک میں شدید مہنگائی نے غریب عوام کا جینا مشکل کردیاہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یوٹیلیٹی بلوں نے زندگی گزارنابھی مشکل بنا دیا ہے۔ بچوں کی تعلیم کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں، صنعتیں ملک سے باہر جا رہی ہیں، بے روزگاری انتہائی عروج پر ہے لیکن حکومت امن و چین کے ساتھ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بڑے بڑے اشتہارات اور کثیر سرمایہ اپنے دورہ جات پر خرچ کر رہی ہے۔ خوردنی اشیاء آٹا، چاول، گھی، انڈے، دالیں، گوشت سب محنت کشوں کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے جو فیکٹریاں کارخانے چل رہے ہیں، ان میں محنت کشوں کو کم از کم اجرت بھی حاصل نہیں ہے جس سے ملک میں غریب عوام میں احساس محرومی اور شدید مایوسی پھیل رہی ہے ۔شکیل احمد شیخ نے کہا کہ اس موقع پر صرف جماعت اسلامی پاکستان ہی مظلوم عوام اور غریب محنت کشوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو با احسن طریقے سے انجام دے رہی ہے، بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے بنو قابل پروگرام کے ذریعے شعور اجاگر کیا جا رہا ہے اور اجتماع عام ملک کے اندھیروں میں ایک روشن باب مرتب کرے گا۔ پورے سندھ سے نیشنل لیبر فیڈریشن کی ملحقہ یونین کے عہدیداران و ممبران اور ہمدرد بڑی تعداد میں شرکت کریں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔