اجتماع عام سے ملک میں نئی سیاسی جدوجہد شروع ہوگی، سہیل شارق
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی سندھ کے نائب قیم پروفیسر سہیل شارق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا اجتماع عام سے ملک میں ایک نئی سیاسی جدوجہد شروع ہو گی 27ویں آئینی ترمیم سے ملک میں کرپشن اور امریت کا راستہ کھل جائے گا یہ بات انھوں نے جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع کی تیاریوں کے سلسلے میں کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام جن حالات میں ہو رہا وہ انتہائی سخت حالات ہیں ملک میں ایک سیاسی حکومت ہوتے ہوئے بھی سیاسی بحران قائم ہے انھوں نے کہا 27ویں آئینی ترمیم حکمران عوام کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے لا رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں کرپشن اور امریت کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا انھوں نے اسی فرسودہ نظام سے نجات حاصل کرنے لیے جماعت نے نظام بدلو تحریک کا آغاز کیا ہے جو جماعت اسلامی اجتماع سے پورے ملک شروع ہوجائے گی جب تک عوام جعلی نعروں اور اس فرسودہ نظام سے نجات نہیں پائے گی اسے کوئی ریلیف حاصل نہیں ہو گا انھوں نے عوام کو اب بڑھ چڑھ کر اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اس تحریک میں حصہ لینا ہو گا اور اجتماع میں شریک ہو کر اس فرسودہ نظام کے خلاف آواز اُٹھانی ہو گی اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ٹنڈوجام حافظ غیور احمد جنرل سیکرٹری پروفیسر راو طارق کونسلر طاہر اسامہ کونسلر عبدالحمید شیخ الخدمت فاونڈیشن کے صد پروفیسر حماد علی بہادر نے انھیں اجتماع عام حوالے سے تیاریوں کے بارے میں رپورٹ دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی سے ملک میں انھوں نے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔