"امن کی خاطر وفاق کے ساتھ مل کر چلنے" کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
سٹی42: خیبر پختونخواکےوزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے "امن کی خاطر وفاق کے ساتھ مل کر چلنے" کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ہمارے جوانوں کو شہید کرتا ہے وہ دہشت گرد ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔
پشاور میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا، خیبر پختونخوا کی پولیس مکمل طور پر اہل ہے اور دہشتگردوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، پولیس کے لیے جدید آلات کی خریداری کی منظور دے چکا ہوں۔
شاہین آفریدی ایک بار پھر پاؤں کی انجری کا شکار
سہیل آفریدی نے کہا، وفاق واجبات دے تو پولیس اور صحت سمیت تمام شعبوں میں مزید بہتری لا سکتے ہیں، خیبر پختونخوا میں فارنزک لیب قائم کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا، پی ٹی آئی کچھ کر رہی ہے تو ہی خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار موقع دیا، موجودہ چیف سیکرٹری اور آئی جی بہترین کام کر رہے ہیں، چاہتا ہوں کہ موجودہ آئی جی کام جاری رکھیں۔
پختونخوا میں کرپشن کے متعلق سوالات کے جواب میں سہیل آفرید ی نے کہا، وفاق کو دعوت دیتا ہوں خیبر پختونخوا میں آڈٹ کرے۔ میرا بھائی بھی کرپشن میں ملوث ہو تو اسے سزا ملنی چاہیے۔
خوارج کے خلاف مربوط کارروائیاں قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں؛ صدرِ مملکت
سہیل آفریدی کا کہنا تھا دہشت گردی نے خیبرپختونخوا کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، جو بھی ہمارے جوانوں کو شہید کرتا ہے وہ دہشت گرد ہے، امن کی خاطر وفاق کا ساتھ دوں گا، امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو سزا دینے کے لیے صوبائی سطح پر قانون سازی کی ہدایت کر دی ہے، انسداد دہشتگردی کے قوانین میں سقم ختم کرنا چاہتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ ک سہیل آفریدی نے کہا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ کسی بھی اقدام سے صوبوں کے عوام کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے، پانی بند کرنے سے متعلق جنید اکبر کا بیان غلط تھا، دہشتگردی کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں، اللہ نہ کرے پنجاب بھی دہشتگردی کا سامنا کرے۔
راشد لطیف نے متنازع بیان پر معافی مانگ لی
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے کہا خیبر پختونخوا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔