میرا بھائی بھی کرپشن میں ملوث ہو تو اُسے سزا ملنی چاہیے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ میرا بھائی بھی کرپشن میں ملوث ہو تو اُسے سزا ملنی چاہیے۔صحافیوں سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس مکمل طور پر اہل ہے اور دہشت گردوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع سے بھرتی کے لیے معیار نرم کر دیا گیا ہے، ضم شدہ اضلاع سے پولیس کی بھرتی کی جائے گی۔ خیبر پختونخوا پولیس اور اسپیشل برانچ کے لیے جدید آلات کی خریداری کی منظوری دے چکا ہوں۔اُن کا کہنا تھا کہ اللّٰہ نہ کرے پنجاب کبھی دہشت گردی کا سامنا کرے، ضم شدہ اضلاع مالی طور پر صوبے سے ضم نہیں ہوئے۔ وفاق واجبات دے تو پولیس اور صحت سمیت تمام شعبوں میں مزید بہتری لا سکتے ہیں، خیبر پختونخوا میں فارنزک لیب قائم کی جائے گی۔
پنجاب کےسرکاری اسپتالوں میں کینسرکےمریضوں کیلئے ادویات نایاب ہوگئیں
انہوں نے کہا کہ وانا حملے اور اسلام آباد حملے کی مذمت کی، دہشت گردی نے خیبر پختونخوا کے ہر شعبے کو متاثر کیا، جو بھی ہمارے جوانوں کو شہید کرتا ہے وہ دہشت گرد ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی کچھ کر رہی ہے تو ہی خیبر پختونخوا کے عوام نے تیسری بار موقع دیا۔اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ چیف سیکریٹری اور آئی جی بہترین کام کر رہے ہیں، چاہتا ہوں کہ موجودہ آئی جی کام جاری رکھیں۔سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وفاق کو دعوت دیتا ہوں خیبر پختونخوا میں آڈٹ کرے لیکن ہمارے واجبات بھی دے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔