بھوٹانی وزیراعظم کا دورہ بنگلہ دیش
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
بھوٹان کی وزیراعظم ٹشیرنگ ٹوبگے بنگلہ دیش کے 2 روزہ سرکاری دورے پر ڈھاکا پہنچ گئے ہیں، ڈھاکا پہنچے پر ان کا بھرپور استقبال کیا گیا، ان کا استقبال چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: طویل مدت بعد پاکستانی سیکریٹری خارجہ کا دورہ بنگلہ دیش
ائرپورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں دونوں رہنماؤں کی مختصر ملاقات ہوئی، اس دوران بھوٹانی وزیر اعظم نے جمعے کے روز بنگلہ دیش میں آنے والے زلزلے کے باعث ہلاکتوں اور نقصان پر اظہار تعزیت کیا۔
ملاقات کے بعد وزیر اعظم ٹوبگے کو 19 توپوں کی سلامی دی گئی اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
بعد ازاں وزیراعظم ٹشیرنگ ٹوبگے نے ساور میں واقع نیشنل مارٹرز میموریل کا دورہ کیا اور بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں جان دینے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف ایڈوائزر محمد یونس سے خالدہ ضیا کی مختصر ملاقات، اہلیہ کی خیریت دریافت کی
انہوں نے یادگار پر پھول چڑھائے اور وزیٹرز بک میں دستخط کیے۔
بھوٹانی وزیراعظم کی ملاقات بنگلہ دیش کے فارن ایڈوائزر اور کامرس ایڈوائزر سے متوقع ہے، جبکہ وہ چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ایک اور اہم ملاقات کریں گے۔
ان کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ بھی رکھا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بنگلہ دیش بھوٹان ٹشیرنگ ٹوبگے چیف ایڈوائزر ڈھاکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھوٹان ٹشیرنگ ٹوبگے چیف ایڈوائزر ڈھاکا چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔