پاکستانی نوجوان کی محبت میں پولش خاتون پاکستان پہنچی، اسلام قبول کرکے نکاح کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
سرگودھا کے رہائشی نوجوان مطیع اللہ کی محبت میں پولینڈ کی خاتون شادی کے لیے پاکستان آ گئی اور اسلام قبول کرنے کے بعد مطیع اللہ سے نکاح کر لیا۔ خاتون نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام مریم رکھ لیا۔
مطیع اللہ کے مطابق، پولینڈ کی رہائشی مانگورزانا سے ان کی سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی جو محبت میں بدل گئی۔ چند روز قبل مانگورزانا پاکستان پہنچی اور بھلوال کی فیملی کورٹ میں جج ثمر حیات کے سامنے مطیع اللہ سے قانونی طور پر شادی کر لی۔
اس سے قبل مریم نے جامع مسجد حامد شاہ میں معروف عالم دین قاضی نگاہ مصطفٰی چشتی کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اور اپنا اسلامی نام مریم رکھ لیا۔
مریم نے اس موقع پر کہا کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان آئی ہیں، اسلام قبول کیا اور شادی کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا اور یہ سب ان کی ذاتی خواہش اور فیصلہ تھا۔
یہ واقعہ بین الاقوامی محبت اور ثقافتی رشتوں کی ایک منفرد مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں محبت نے سرحدیں عبور کیں اور دونوں نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلام قبول مطیع اللہ
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔