دہلی ہائی کورٹ نے لال قلعہ دھماکے کے الزام میں گرفتار کشمیری نوجوان کو وکیل سے ملاقات کرنے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
بھارتی پولیس نے مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع اسلام آباد کے رہائشی جاسر بلال کو 17نومبر کو گرفتار کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ نئی دلی ہائیکورٹ نے لال قلعہ دھماکے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کشمیری نوجوان جاسر بلال وانی کو تحقیقاتی ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی“ (این آئی اے) کے ہیڈکوارٹر میں اپنے وکیل سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق جسٹس سوارانا کانتا شرما پر مشتمل ہائیکورٹ کے یک رکنی بنچ نے ملاقات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جاسر بلال ٹرائل کورٹ کی طرف سے دیا جانے والا کوئی حکمنامہ دکھانے میں ناکام رہے ہیں، وہ (جاسر) کوئی خاص شخص نہیں ہے انہیں مروجہ طریقہ کار کی پیروی کرنا ہو گی۔ بھارتی پولیس نے مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع اسلام آباد کے رہائشی جاسر بلال کو 17نومبر کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے ان پر دلی دھماکے میں سہولت کاری فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایک ٹرائل کورٹ نے انہیں دس روز کے لیے این آئی اے کی تحویل میں دیا ہے۔ وانی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے ان کی ”این آئی اے“ کے دفتر میں جاسر سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم جاری کرنے سے انکار کیا ہے تاہم وہ ہائیکورٹ کو اس حوالے سے ٹرائل کورٹ کا حکمنامہ دکھانے میں ناکام رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹرائل کورٹ جاسر بلال کورٹ نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔