آئی ایم ایف رپورٹ: سرکاری ملکیتی ادارے کرپشن کی وجہ قرار، عدالتی اصلاحات پر زور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی نئی ’گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ‘ میں پاکستان میں کرپشن کو گورننس سسٹم کی بنیادی خامی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سرکاری ملکیتی اداروں میں بدعنوانی، کمزور حکومتی کنٹرول اور غیر مؤثر عدالتی و احتسابی نظام ملک کی معاشی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کی عوام دوست عدالتی اصلاحات پر پیش رفت رپورٹ جاری
بنیادی طور پر کہا جائے تو آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ کا خلاصہ یہی ہے کہ کرپشن پاکستان کے گورننس نظام کا بنیادی جزو ہے جبکہ کمزور عدالتی نظام میں احتساب کا عمل مکمل طور پر آزاد نہیں۔
رواں برس فروری میں آئی ایم وفد نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی اور اس کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے 2 ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کے عدالتی نظام پر بات چیت کی گئی۔
گزشتہ سے پیوستہ روز آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے اور قانون کی حکمرانی پر انحصار اس وقت بہتر ہوگا جب پرانے اور فرسودہ قانونی ڈھانچے کو جدید بنایا جائے، مقدمات کے بیک لاگ کو ختم کیا جائے، عدالتوں کی کارکردگی کی عوامی نگرانی پر زیادہ توجہ دی جائے، اور اُن رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو عدالتی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔
مزید پڑھیے: ’ایلیٹ کیپچر‘ پاکستانی معیشت کو کھربوں روپوں کا نقصان پہنچا رہا ہے، آئی ایم ایف
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالتی نظام پر اعتماد مضبوط کرنے کے لیے عدلیہ کے اداروں کی آزادی اور دیانت کو تقویت دینا ضروری ہے جس کے لیے ججز کی تقرری کے عمل، ملازمت کی شرائط اور نگرانی کے طریقہ کار میں بہتری لانا ہوگی۔
اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی فنڈنگ کے اقدامات کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ اس وقت بہتر نتائج دیں گے جب بدعنوانی سے متعلق خطرات کو ترجیح دی جائے، جیسا کہ شناخت کردہ کمزوریوں کے مطابق وسائل کا تعین، بینیفیشل اونرشپ میں شفافیت کو بہتر بنانا، اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھانا اور تفتیش و پیروی مقدمہ کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا۔قانونی اصلاحات میں ان ابہامات کو دور کرنا چاہیے جو بغیر بنیادی جرم کی سزا کے منی لانڈرنگ کے مقدمات پر کارروائی میں رکاوٹ بنتے ہیں اور غیر ملکی اثاثوں کی واپسی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو بہتر بنانا چاہیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمزور گورننس، کمزور حکومتی کنٹرول، فیصلہ سازی کی عدم صلاحیت کہ معیشت میں حکومت نے کب مداخلت کرنی ہے، پیچیدہ ٹیکس نظام، احتساب کا کمزور نظام جو مکمل طور پر آزاد نہیں یہ وہ رُکاوٹیں ہیں جو پاکستان کی سالانہ 5 سے 6.
مزید پڑھیں: عدالتی اصلاحات کے ثمرات ، سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات میں نمایاں کمی
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے گزشتہ سے پیوستہ روز پاکستان کے بارے میں گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ شائع کی جو پاکستان کی درخواست پر تیار کی گئی تھی۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’نتائج سے پتا چلتا ہے کہ ریاست کے زیر اثر معیشت میں مسلسل اور وسیع پیمانے پر کرپشن کے خطرات موجود ہیں جو پیچیدہ ریگولیٹری ڈھانچوں، کمزور ادارہ جاتی صلاحیتوں، بکھری ہوئی نگرانی، غیر مؤثر اور غیر مستقل احتساب اور کمزور قانون کی حکمرانی کے ساتھ کام کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ بار کی عدالتی اصلاحات کے لیے تجاویز کیا ہیں؟
آئی ایم ایف اِس سے قبل بھی سرکاری افسران و دیگر عہدیداران کے اثاثے جات پبلک کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے اور اِس رپورٹ میں ایک بار پھر یہ کہا گیا ہے اثاثہ جات کے ڈکلیریشن سے کرپشن میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی سپریم کورٹ عالمی مالیاتی ادارہ عدالتی اصلاحات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف چیف جسٹس سپریم کورٹ ا ف پاکستان جسٹس یحی ی ا فریدی سپریم کورٹ عالمی مالیاتی ادارہ عدالتی اصلاحات عدالتی اصلاحات ا ئی ایم ایف سپریم کورٹ کہا گیا ہے رپورٹ میں کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔