سکردو میں زمینوں کا برا حال ہے، ہزاروں کنال اراضٰ قبضہ مافیا کے پاس ہے، جمیل احمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پیپلزپارٹی کے رکن جی بی اسمبلی جمیل احمد نے کہا ہے کہ لینڈ ریفارمز پیپلزپارٹی کا منشور تھا، اس میں کچھ خامیاں بھی ہو سکتی ہیں لیکن چونکہ اسمبلی میں ہماری اکثریت نہیں اس لیے وہ اصلاحات نہ کر سکے جو ہم کرنا چاہتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلزپارٹی کے رکن جی بی اسمبلی جمیل احمد نے کہا ہے کہ لینڈ ریفارمز پیپلزپارٹی کا منشور تھا، اس میں کچھ خامیاں بھی ہو سکتی ہیں لیکن چونکہ اسمبلی میں ہماری اکثریت نہیں اس لیے وہ اصلاحات نہ کر سکے جو ہم کرنا چاہتے تھے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلی مرتبہ خالصہ سرکار کو ختم کیا، اس دوران حاجی گلبر نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ ریفارمز میں نیشنل پارک کا ذکر موجود ہے، گلگت کے مقابلے میں سکردو میں زمینوں کا برا حال ہے، جہاں ہزاروں کنال اراضی قبضہ مافیا کے پاس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔