بچے ہمارا مستقبل ہیں، بچوں کے حقوق کا تحفظ ہماری حکومت کی ترجیح ہے: مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں، بچوں کے حقوق کا تحفظ ہماری حکومت کی ترجیح ہے۔ عالمی یومِ اطفال کے حوالے سے بچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سی ویو گئے، اس موقع پر صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر طارق علی تالپور اور سیکریٹری آغا سہیل نے وزیراعلیٰ سندھ کا استقبال کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے ورلڈ چلڈرنز ڈے آگاہی واک کی قیادت کی، واک میں بچوں کے حقوق، تحفظ اور فلاح کے بارے میں آگاہی دی گئی، اس موقع پر وزیراعلیٰ بچوں میں گھل مل گئے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہیں، ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر بچہ محفوظ، مطمئن اور بااختیار ہو۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی وجہ سے یہ دنیا خوبصورت ہے، ان کی محبت اور تربیت سے یہ خوبصورتی بڑھتی ہے تاہم سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بچوں کے حقوق پر آگاہی کے لیے مختلف سرگرمیاں جاری ہیں، واک میں شریک شہریوں نے بچوں کے حقوق کے لیے حکومت سندھ کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم سب نے مل کر ایسے معاشرتی رویے رویوں کو فروغ دینا ہے جو بچوں کے لئے ماحول محفوظ بنائیں، آج کی واک بچوں کی آواز کو مضبوط کرنے کی ایک مشترکہ کوشش ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ بچوں کے حقوق
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔