بچوں کے حقوق پر مؤثر قانون سازی کی ہے لیکن عملدرآمد پر مسائل ہیں: مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے بچوں کے حقوق پر مؤثر قانون سازی کی ہے لیکن عملدرآمد پر مسائل ہیں۔
کراچی میں بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر اور بچوں کے ظالم کے خلاف سندھ حکومت کام کرتی رہی ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کل کے اجلاس میں لوگوں نے بہت سخت قوانین بنانے کی بات کی تھی، ہمارے پاس بہت سارے مسائل ہیں، غربت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے کے لیے مقابلے کے امتحان کے ذریعے نئے ٹیچرز بھرتی کیے، سرکاری اساتذہ بھی آئے روز سڑکوں پر ہوتے ہیں، اساتذہ کی بنیادی ذمے داری بچوں کو پڑھانے کی ہے۔
کراچی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ معاشی.
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ بچوں سے بدسلوکی کے کیسز کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں، بچوں سے بدسلوکی کے کیسز کی کمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جب تک سخت سزائیں نہیں ملیں گی بچوں سے بدسلوکی واقعات کم نہیں ہوں گے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس میں بچوں کو چائلڈ ابیوز سے بچنے کی تربیت دی جاتی ہے، بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی تعلیم پر تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے، آج کی تقریب کے حوالے سے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کا شکر گزار ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی کم عمری کی شادی کے حوالے سے بل پاس ہوا ہے، ہمیں کئی مرتبہ ایشوز کا سامنا رہا ہے کہ سندھ کے بچے بچیاں پنجاب میں جا کر شادی کر لیتے ہیں، کم عمری کی شادی کے حوالے سے سندھ میں قانون موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اکثر بچوں کی اسکول جانے کی عمر میں والدین انہیں کام کاج پر لگا دیتے ہیں، بچوں کے اسکول نہ جانے کی وجوہات میں غربت بھی شامل ہے، حکومت سندھ کوشش کر رہی ہے اسکول سے باہر بچوں کا نمبر صفر تک لے آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ کے حوالے سے نے کہا کہ بچوں کے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :