خیبرپختونخوا میں تاریخی قانون سازی، ریڑھی بانوں کو ریاستی تحفظ فراہم کرنے والا بل تیار
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ پہلی بار اسٹریٹ اکانومی سے متعلق تاریخی قانون سازی کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025‘ کا مسودہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے ذریعے ریڑھی بانوں کے حقوق کو قانون کا مستقل اور مضبوط حصہ بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی: الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کل طلب کرلیا
وزیراعلیٰ کے مطابق نئے قانون کے تحت صوبے کے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد ریڑھی بان ریاستی تحفظ کے دائرے میں شامل ہوں گے اور کسی کو بھی ان کی روزی پر ناجائز قبضہ یا دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے 380 ارب روپے سے زائد مالیت کی اسٹریٹ اکانومی کو قانونی ڈھانچہ دے کر تاریخ رقم کر دی ہے۔
نئے قانون میں ریڑھی بانوں کو ہراسانی اور رشوت ستانی سے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور ان جرائم کو سنگین نوعیت کا جرم قرار دیا جائے گا۔
رجسٹرڈ ریڑھی بانوں کے خلاف کسی بھی انسداد تجاوزات کارروائی بغیر نوٹس مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔ جب کہ ریڑھی بانوں کو مائیکرو فنانس، کریڈٹ، انشورنس اور ایمرجنسی سپورٹ جیسی سہولیات تک رسائی بھی فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ بل عمران خان کے ریاستِ مدینہ کے وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہر شہری کو مساوی قانونی تحفظ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے صاحبزادے پشاور کے بڑے طبی ادارے کے لیگل ایڈوائزر مقرر
نئے قانون کے تحت ریڑھی بانوں کے لیے محفوظ وینڈنگ زونز، واضح حقوق اور مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اسٹریٹ وینڈنگ سرٹیفکیٹ ان کے معاشی تحفظ کی ضمانت ہوگا اور ان کی روزمرہ کمائی حکومتی سرپرستی میں محفوظ رہے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بل میں تحصیل وینڈنگ کمیٹیوں کے فیصلوں میں ریڑھی بانوں کی لازمی نمائندگی شامل ہوگی تاکہ ان کی آواز براہِ راست پالیسی سازی میں شامل ہو۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریڑھی بانوں کی محنت، جدوجہد اور عزتِ نفس قابلِ احترام ہے اور حکومت ان کی کھوئی ہوئی خودی اور وقار کو بحال کرے گی۔
بل کو صوبائی کابینہ کی منظوری کے لیے بھیجا جا رہا ہے، جس کے بعد اسے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ قانون صوبے کے محنت کش طبقے کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا اور اسٹریٹ اکانومی کو جدید، محفوظ اور منظم بنانے کی بنیاد رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور خیبرپختونخوا ریڑھی بان بل سہیل آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور خیبرپختونخوا ریڑھی بان بل سہیل ا فریدی ریڑھی بانوں نے کہا کہ جائے گا کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔