خیبر پختونخوا حکومت پہلی اسٹریٹ اکانومی قانون سازی کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت پہلی اسٹریٹ اکانومی قانون سازی کے لیے تیار ہے جب کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت احساس ریھڑی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔
ہسہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں ریڑھی بانوں کے حقوق کو قانون کا مستقل حصہ بنایا جا رہا ہے، 1.
انہوں نے کہا کہ 380 ارب روپے کی اسٹریٹ اکانومی کو مکمل قانونی ڈھانچہ دے کر صوبائی حکومت نے تاریخ رقم کردی ہے، نئے قانون میں ہراسانی اور رشوت ستانی کو سنگین جرم قرار دیا جائے گا۔
ریجسٹرڈ ریڑھی بانوں کے خلاف بغیر نوٹس انسداد تجاوزات کارروائیاں مکمل طور پر ممنوع ہونگی، نئے قانون میں ریڑھی بانوں کو مائیکرو فنانس، کریڈٹ، انشورنس اور ایمرجنسی سپورٹ تک رسائی ملے گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے ریاست مدینہ کے وژن کے مطابق ہر شہری کو قانون کا مساوی تحفظ حاصل ہوگا، ریڑھی بانوں کے لیے محفوظ وینڈنگ زونز، واضح حقوق، اور مکمل قانونی تحفظ فراہم کر رہے ہیں، اسٹریٹ وینڈنگ سرٹیفکیٹ قانونی تحفظ کی ضمانت ہوگی اور ریڑھی بانوں کی روزانہ کی کمائی سرکاری چھتری تلے محفوظ ہوگی۔
نئے تحصیل وینڈنگ کمیٹیز کے فیصلوں میں ریڑھی بانوں کی نمائندگی لازم ہوگی، ریڑھی بانوں کی محنت اور عزتِ نفس کا اعتراف کرتے ہیں، ان کی کھوئی ہوئی خودی بحال کریںنگے، ایوان میں پیشی سے قبل بل کو کابینہ منظوری کے لیے بھجوایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریڑھی بانوں کی خیبر پختونخوا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔