data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حال ہی میں افغان طالبان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور، ملا عبدالغنی برادر نے کابل میں تاجروں کو سخت پیغام دیا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر پاکستان پر انحصار ختم کریں اور دیگر متبادل راستے اور مارکیٹس تلاش کریں۔ یہ ہدایت بنیادی طور پر پاکستان کے بار بار سرحدی راستے بند کرنے اور تجارتی راستوں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی شکایت کے تحت دی گئی ہے۔ یعنی طالبان نے پاکستان کی شکایت کو دور کرنے کے بجائے پاکستان سے تجارتی رابطے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اپنی دہشت گردی سے باز نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر طالبان کی پالیسی واضح طور پر پاکستان پر اقتصادی انحصار کم کرنے اور افغانستان کی خود مختاری اور وقار کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے، لیکن دوسرے ملک کی خود مختاری اور آزادی میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتے ہیں اپنے عقائد اور نظریات کو جبراً دوسروں پر مسلط کرتے ہیں جو کہ قطعاً غیر اسلامی ہے۔ پاکستان کی جانب سے تجارت پر پابندی سے ان کو جو نقصان ہو رہا ہے اس کا ادراک کرنے کے بجائے وہ بھارت کے غلام بننے جا رہے ہیں وہ بھارت جو مسلمانوں سے شدید نفرت کرتا ہے اور بھارت میں مسلمانوں کا جو حال ہے اس کا ادراک اور احساس افغان طالبان کو بالکل بھی نہیں ہے۔ یہاں ان کی آزادی اور خود مختاری پر زد نہیں پڑتی۔ بھارت سے کس راستے سے تجارت ہوگی انہیں اس کا بھی احساس نہیں ہے۔

پاکستان کے فیصلے کے وسیع تر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں جو افغانستان کی معیشت اور عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی اہمیت اور افغانستان کی معیشت میں اس کا کردار پاکستان افغانستان کے لیے سب سے بڑا تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے، جہاں سے تقریباً 60 سے 70 فی صد ضروری اشیاء مثلاً خوراک، سیمنٹ، روزمرہ استعمال کی ادویات اور دیگر مصنوعات آتی ہیں۔ پاکستانی راستے نسبتاً کم لاگت کے ہوتے ہیں، جس سے افغانستان میں سامان کی قیمتیں کم رہتی ہیں اور عوام کو سستی اشیاء میسر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اسمگل شدہ اشیاء بھی پاکستان سے افغانستان پہنچتی ہیں، جو ملک کے غیرسرکاری معیشتی دائرے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ تاہم، اسمگلنگ کے باعث پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کے ٹیکس کا نقصان بھی ہوتا ہے اور یہ مسئلہ علاقائی معیشت اور سیکورٹی کے لیے چیلنج بھی ہے۔

طالبان کی نئی حکمت عملی اور دیگر ممکنہ راستے: طالبان کی جانب سے بیان دیے گئے ہیں کہ اب افغانستان کو وسطی ایشیا، ایران، چین اور ترکی کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ ایران کے چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے بھارت کے ساتھ تجارت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے، جو بھارت کے لیے ایک متبادل روٹ ہے۔ کیونکہ پاکستان کی طرف سے بھارت کو افغانستان تک زمینی رسائی حاصل نہیں۔ اگرچہ یہ راستہ افغانستان کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن اس کی لاگت بھی زیادہ اور ترسیل کا وقت لمبا ہوتا ہے۔ اور افغانستان کو ایران کو بھی ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور بھارت کو بھی ٹیکس دینا ہوگا۔

بھارت سے تجارت کے نقصانات اور ادویات کا معیار: افغانستان میں بھارت سے آنے والی ادویات کی کوالٹی کو لے کر بعض خدشات پائے جاتے ہیں، جہاں غیر معیاری اور جعلی ادویات کا بازار بھی ہے۔ اور زیادہ تر دواؤں میں گائے کے پیشاب اور گوبر کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ سور چربی سے بھی بعض دوائیں بنائی جاتی ہیں۔ یہ تو کھلی حقیقت ہے کہ بھارت سے آنے والی اشیاء افغانستان کو مہنگی پڑتی ہیں کیونکہ وہ زیادہ دور سے آتی ہیں اور ان پر اضافی ترسیلی اخراجات آتے ہیں۔ علاوہ ازیں، بھارت سے آنے والے گوشت کی حلال حیثیت بھی افغانستان کے مذہبی تقاضوں کی نظر سے ہمیشہ یقینی نہیں ہوتی، جو ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں کشیدگی کا سیاسی پس منظر: پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں اور دہشت گردی کے واقعات نے دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ پاکستان نے طالبان کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کے الزام عائد کیے ہیں اور اس حوالے سے سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ دہشت گردی کی سرگرمیاں بند نہ ہونے کی صورت میں افغانستان سے ٹرانزٹ اور تجارتی معاہدے معطل رہ سکتے ہیں۔

اقتصادی چلینجز اور مستقبل کے امکانات: افغانستان کی معیشت عالمی پابندیوں اور اندرونی مسائل کی وجہ سے پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ پاکستان کے راستے بند ہونے سے افغانستان کو ایران کے چاہ بہار بندرگاہ کے راستے جانا پڑے گا، جو مہنگا اور پیچیدہ راستہ ہے۔ اس سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور عام آدمی کی پہنچ مشکل ہو جائے گی۔ طالبان حکومت نے تاجروں کو کہا ہے کہ وہ پاکستان سے ادویات کی درآمد مکمل بند کر دیں، جس سے صحت کا شعبہ متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ بھارت اور دیگر ممالک سے معیاری ادویات کے عمل کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے لیے نئی مارکیٹ کی تلاش: پاکستان کے لیے اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ افغانستان کے علاوہ دیگر ملکوں میں اپنی مصنوعات کی مارکیٹ تلاش کرے اور علاقائی و بین الاقوامی تجارتی روابط کو مضبوط کرے۔ علاقائی امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر اقتصادی تعاون اور ٹرانزٹ تجارتی معاہدہ بحال رکھنا مشکل ہوگا۔ مجموعی طور پر، طالبان کی پالیسی پاکستان پر انحصار کم کرنے کی کوشش ہے جس کی وجہ سے افغانستان کا تجارتی منظرنامہ بدلنے جا رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے کے دعوے کے باوجود اس کے بڑھتے ہوئے نقصانات اور مہنگائی کی وجہ سے افغانستان کے لیے پاکستان کے تجارتی راستے مزید اہم ہو جائیں گے۔ علاقائی استحکام اور مذاکرات کو فروغ دینا دونوں ممالک اور خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

وجیہ احمد صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور افغانستان کے ساتھ تجارت افغانستان کی افغانستان کے سے افغانستان افغانستان کو پاکستان سے پاکستان کے پاکستان کی طالبان کی اور دیگر بھارت کے بھارت سے کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی