افغانستان کا پاکستان سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ؛ ممکنہ اثرات
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حال ہی میں افغان طالبان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور، ملا عبدالغنی برادر نے کابل میں تاجروں کو سخت پیغام دیا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر پاکستان پر انحصار ختم کریں اور دیگر متبادل راستے اور مارکیٹس تلاش کریں۔ یہ ہدایت بنیادی طور پر پاکستان کے بار بار سرحدی راستے بند کرنے اور تجارتی راستوں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی شکایت کے تحت دی گئی ہے۔ یعنی طالبان نے پاکستان کی شکایت کو دور کرنے کے بجائے پاکستان سے تجارتی رابطے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اپنی دہشت گردی سے باز نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر طالبان کی پالیسی واضح طور پر پاکستان پر اقتصادی انحصار کم کرنے اور افغانستان کی خود مختاری اور وقار کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے، لیکن دوسرے ملک کی خود مختاری اور آزادی میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتے ہیں اپنے عقائد اور نظریات کو جبراً دوسروں پر مسلط کرتے ہیں جو کہ قطعاً غیر اسلامی ہے۔ پاکستان کی جانب سے تجارت پر پابندی سے ان کو جو نقصان ہو رہا ہے اس کا ادراک کرنے کے بجائے وہ بھارت کے غلام بننے جا رہے ہیں وہ بھارت جو مسلمانوں سے شدید نفرت کرتا ہے اور بھارت میں مسلمانوں کا جو حال ہے اس کا ادراک اور احساس افغان طالبان کو بالکل بھی نہیں ہے۔ یہاں ان کی آزادی اور خود مختاری پر زد نہیں پڑتی۔ بھارت سے کس راستے سے تجارت ہوگی انہیں اس کا بھی احساس نہیں ہے۔
پاکستان کے فیصلے کے وسیع تر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں جو افغانستان کی معیشت اور عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی اہمیت اور افغانستان کی معیشت میں اس کا کردار پاکستان افغانستان کے لیے سب سے بڑا تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے، جہاں سے تقریباً 60 سے 70 فی صد ضروری اشیاء مثلاً خوراک، سیمنٹ، روزمرہ استعمال کی ادویات اور دیگر مصنوعات آتی ہیں۔ پاکستانی راستے نسبتاً کم لاگت کے ہوتے ہیں، جس سے افغانستان میں سامان کی قیمتیں کم رہتی ہیں اور عوام کو سستی اشیاء میسر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اسمگل شدہ اشیاء بھی پاکستان سے افغانستان پہنچتی ہیں، جو ملک کے غیرسرکاری معیشتی دائرے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ تاہم، اسمگلنگ کے باعث پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کے ٹیکس کا نقصان بھی ہوتا ہے اور یہ مسئلہ علاقائی معیشت اور سیکورٹی کے لیے چیلنج بھی ہے۔
طالبان کی نئی حکمت عملی اور دیگر ممکنہ راستے: طالبان کی جانب سے بیان دیے گئے ہیں کہ اب افغانستان کو وسطی ایشیا، ایران، چین اور ترکی کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ ایران کے چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے بھارت کے ساتھ تجارت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے، جو بھارت کے لیے ایک متبادل روٹ ہے۔ کیونکہ پاکستان کی طرف سے بھارت کو افغانستان تک زمینی رسائی حاصل نہیں۔ اگرچہ یہ راستہ افغانستان کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن اس کی لاگت بھی زیادہ اور ترسیل کا وقت لمبا ہوتا ہے۔ اور افغانستان کو ایران کو بھی ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور بھارت کو بھی ٹیکس دینا ہوگا۔
بھارت سے تجارت کے نقصانات اور ادویات کا معیار: افغانستان میں بھارت سے آنے والی ادویات کی کوالٹی کو لے کر بعض خدشات پائے جاتے ہیں، جہاں غیر معیاری اور جعلی ادویات کا بازار بھی ہے۔ اور زیادہ تر دواؤں میں گائے کے پیشاب اور گوبر کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ سور چربی سے بھی بعض دوائیں بنائی جاتی ہیں۔ یہ تو کھلی حقیقت ہے کہ بھارت سے آنے والی اشیاء افغانستان کو مہنگی پڑتی ہیں کیونکہ وہ زیادہ دور سے آتی ہیں اور ان پر اضافی ترسیلی اخراجات آتے ہیں۔ علاوہ ازیں، بھارت سے آنے والے گوشت کی حلال حیثیت بھی افغانستان کے مذہبی تقاضوں کی نظر سے ہمیشہ یقینی نہیں ہوتی، جو ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں کشیدگی کا سیاسی پس منظر: پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں اور دہشت گردی کے واقعات نے دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ پاکستان نے طالبان کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کے الزام عائد کیے ہیں اور اس حوالے سے سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ دہشت گردی کی سرگرمیاں بند نہ ہونے کی صورت میں افغانستان سے ٹرانزٹ اور تجارتی معاہدے معطل رہ سکتے ہیں۔
اقتصادی چلینجز اور مستقبل کے امکانات: افغانستان کی معیشت عالمی پابندیوں اور اندرونی مسائل کی وجہ سے پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ پاکستان کے راستے بند ہونے سے افغانستان کو ایران کے چاہ بہار بندرگاہ کے راستے جانا پڑے گا، جو مہنگا اور پیچیدہ راستہ ہے۔ اس سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور عام آدمی کی پہنچ مشکل ہو جائے گی۔ طالبان حکومت نے تاجروں کو کہا ہے کہ وہ پاکستان سے ادویات کی درآمد مکمل بند کر دیں، جس سے صحت کا شعبہ متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ بھارت اور دیگر ممالک سے معیاری ادویات کے عمل کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے لیے نئی مارکیٹ کی تلاش: پاکستان کے لیے اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ افغانستان کے علاوہ دیگر ملکوں میں اپنی مصنوعات کی مارکیٹ تلاش کرے اور علاقائی و بین الاقوامی تجارتی روابط کو مضبوط کرے۔ علاقائی امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر اقتصادی تعاون اور ٹرانزٹ تجارتی معاہدہ بحال رکھنا مشکل ہوگا۔ مجموعی طور پر، طالبان کی پالیسی پاکستان پر انحصار کم کرنے کی کوشش ہے جس کی وجہ سے افغانستان کا تجارتی منظرنامہ بدلنے جا رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے کے دعوے کے باوجود اس کے بڑھتے ہوئے نقصانات اور مہنگائی کی وجہ سے افغانستان کے لیے پاکستان کے تجارتی راستے مزید اہم ہو جائیں گے۔ علاقائی استحکام اور مذاکرات کو فروغ دینا دونوں ممالک اور خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور افغانستان کے ساتھ تجارت افغانستان کی افغانستان کے سے افغانستان افغانستان کو پاکستان سے پاکستان کے پاکستان کی طالبان کی اور دیگر بھارت کے بھارت سے کے لیے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔