غیر جماعتی بلدیاتی الیکشن کے دو پہلو
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا جو قانون منظورکیا ہے وہ پیپلز پارٹی و پی ٹی آئی نے مسترد کردیا ہے اور پی پی نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی پنجاب حکومت کے نئی حلقہ بندیوں کو جواز بنا کر دسمبر میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن ملتوی کر دیے ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت نے 2022 میں پارٹی بنیاد پر دو مرحلوں میں بلدیاتی الیکشن کرائے تھے جو جماعتی بنیاد پر تھے جس میں پی ٹی آئی پشاور تک کا الیکشن ہارگئی تھی اور اسے متعدد اضلاع میں جے یو آئی کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی، جس پر برہم ہوکر وزیر اعظم نے خود کے پی جا کر بلدیاتی الیکشن جیتنے کے لیے انتخابی مہم چلائی تھی۔ وفاق اور کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور دونوں حکومتوں نے سرکاری وسائل استعمال کر کے باقی اضلاع میں اپنے امیدوار منتخب کرا لیے تھے جس پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگائے تھے۔
کے پی میں سب سے پہلے اور سندھ و بلوچستان میں بعد میں انتخابات جماعتی بنیاد پر ہوئے تھے اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہوتے ہوئے شکست کے خوف سے بلدیاتی انتخابات کرائے ہی نہیں گئے، جس کے بعد منصوبے کے تحت پنجاب و کے پی اسمبلیاں بانی پی ٹی آئی نے تحلیل کرا کر اپنی حکومتیں خود ختم کرا دی تھیں۔
پنجاب میں بعد میں 2024 میں عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی تھی جس کو ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے مگر پنجاب حکومت نے بلدیاتی الیکشن نہیں کرایا جس پر الیکشن کمیشن کو بڑی دیر بعد خیال آیا کہ تین صوبوں میں بلدیاتی نظام چل رہا ہے اور پنجاب محروم ہے جس پر اس نے پنجاب حکومت کو دسمبر میں ہر حال میں بلدیاتی الیکشن کرانے کی ہدایت کی جس پر مسلم لیگ نے حسب ماضی وقت پر الیکشن کرانے کی بجائے نئے بلدیاتی قوانین منظور کرا لیے اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد بلدیاتی الیکشن کرانے کے لیے مہلت لے لی اور مزید تاخیر کے لیے غیر جماعتی انتخابات کا فیصلہ کیا تاکہ مخالفین اس بنیاد پر ہائی کورٹ جائیں تاکہ مزید تاخیر ہو،کیونکہ ماضی میں کبھی بلدیاتی انتخابات کو اہمیت دی گئی نہ کبھی 2015 کے بعد کسی عدالت نے ایکشن لیا کہ آئین کی دفعہ 14-A پر عمل کرکے صوبائی حکومتیں کیوں بلدیاتی انتخابات نہیں کراتیں؟
یہ اعزاز صرف غیر سول حکومتوں کو حاصل ہے کہ انھوں نے آئین پر عمل کرکے ہمیشہ وقت پر انتخابات بلدیاتی اداروں کے کروائے جب کہ نام نہاد جماعتی و سیاسی حکومتوں نے ہمیشہ بلدیاتی الیکشن سے راہ فرار اختیار کی جس کا ثبوت مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومتیں ہیں جو اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرا رہیں اور پنجاب حکومت نے غیر جماعتی بلدیاتی الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے جب کہ تین صوبوں میں بلدیاتی اداروں کی مدت پوری ہونے والی ہے۔
جماعتی حکومتیں اپنے صوبوں میں اپنے ٹکٹوں پر بلدیاتی الیکشن کراتی ہیں اور سرکاری ٹکٹوں کی اہمیت ہوتی ہے اور سرکاری وسائل استعمال کرکے اپنے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرا لیتی ہیں۔ ماضی میں پنجاب، سندھ و کے پی کی حکومتیں اپنے امیدواروں کو کامیاب کرا چکی ہیں۔ جماعتی انتخابات میں امیدوار اپنی پارٹی کے احکامات کا پابند ہوتا ہے اور اپنی حکومت سے جائز بات بھی نہیں منوا سکتا اور سیاسی حکومتیں انھیں ہی فنڈ دیتی ہیں اور ان کی کرپشن پر خاموش رہتی ہیں اور ان کے بلدیاتی نمایندے ہمیشہ حکومت وقت کی تعریفوں میں مصروف رہتے ہیں۔
جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز نے اپنی حکومتوں میں پانچ بار بلدیاتی انتخابات کرائے تھے اور بلدیاتی نمایندے کامیاب ہو کر اپنی پارٹیوں کے وفادار رہے اور انھوں نے آمر صدور اور گورنروں تک کو اہمیت نہیں دی اور نہ ان کی حمایت یا خوشامد کی بلکہ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ انھوں نے آمر حکمرانوں کی تقریبات کا بائیکاٹ کیا تھا مگر جنرل ضیا الحق نے شکار پور آمد پر اپنے پروگرام میں نہ آنے پر پی پی کے چیئرمین کے خلاف کارروائی تک نہیں کی تھی۔ اصل بات وقت پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہے خواہ وہ جماعتی ہوں یا غیر جماعتی۔ انتخابات کے بعد ہر بلدیاتی عہدیدار حکومت سے زیادہ اپنی جماعت کا وفادار ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات بلدیاتی الیکشن الیکشن کرانے میں بلدیاتی پنجاب حکومت غیر جماعتی اور پنجاب الیکشن کر پی ٹی آئی حکومت نے بنیاد پر کی حکومت ہیں اور کے بعد ہے اور
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان
لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔
حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔
کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے
الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔
کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔
دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔
مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار
ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔
انتخابی مہم عروج پرآزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔
ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟
اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن