بہار الیکشن کے ایگزٹ پولز کے نتائج جاری، کس کی کامیابی کے امکانات زیادہ؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
بھارتی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات 2025 کے لیے منگل کی شام جاری ہونے والے ایگزٹ پولز کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل یونائیٹڈ کی قیادت میں قائم نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو واضح برتری حاصل ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
جے ڈی یو اور بی جے پی کیمپ میں ایگزٹ پول نتائج پر خوشی کی لہر ہے، جبکہ مہاگٹھ بندھن یعنی گرینڈ الائنس کو کافی پیچھے دکھایا گیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے ان نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست بہار میں پہلے مرحلے کے انتخابات کے دوران ریکارڈ ٹرن آؤٹ
سروے کے ذمہ دار مختلف اداروں کے مطابق، 243 رکنی اسمبلی میں این ڈی اے کو 130 سے 209 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جو حکومت سازی کے لیے درکار سادہ اکثریت سے کہیں زیادہ ہیں۔
دوسری جانب راشٹریہ جنتا دل یعنی آر جے ڈی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل مہاگٹھ بندھن کو 70 سے 102 نشستوں تک محدود دکھایا گیا ہے۔
انتخابی ماہر پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی کو، جسے بعض تجزیہ کار ممکنہ ’اسپوائلر‘ قرار دے رہے تھے، محض 0 سے 5 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ہریانہ انتخابات: ٹھپے پہ ٹھپہ لگانے کے الزام پر برازیلی ماڈل کا جواب
ایگزٹ پول نتائج حتمی نہیں ہوتے، اصل نتائج 14 نومبر کو گنتی کے دوران ظاہر ہوں گے، جب ریاست کے تمام 38 اضلاع میں سخت سیکیورٹی کے درمیان صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی۔
ووٹنگ کی شرحانتخابات 2 مرحلوں میں مکمل ہوئے، الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق مجموعی ووٹنگ ٹرن آؤٹ 66.
پہلے مرحلے میں 6 نومبر کو 65.08 فیصد ووٹ ڈالے گئے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 11 نومبر کو 68.67 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی۔
نشستوں کی تقسیم243 نشستوں میں سے این ڈی اے میں بی جے پی اور جے ڈی یو 101 ایک سو ایک نشستوں پر میدان میں ہیں، ایل جے پی (رام ولاس) 29، جبکہ ایچ اے ایم (ایس) اور آر ایل ایم 6 چھ نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔
مہاگٹھ بندھن کی جانب سے آر جے ڈی 143، کانگریس 61، سی پی آئی 9، سی پی آئی (ایم) 4، سی پی آئی (ایم-ایل) 20 اور وی آئی پی 15 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے گئے ہیں۔
243 رکنی ایوان میں 122 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنے والی جماعت یا اتحاد حکومت بنائے گا۔ یہ انتخاب اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا نتیش کمار کی این ڈی اے اقتدار میں برقرار رہتی ہے یا تیجسوی یادو کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد حکومت سنبھالتا ہے۔
ایگزٹ پول کیا ہے؟ایگزٹ پول ایک ایسا سروے ہوتا ہے جو ووٹ ڈالنے کے بعد رائے دہندگان سے پوچھ کر تیار کیا جاتا ہے تاکہ ان کی سیاسی ترجیحات اور ممکنہ نتائج کا اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ ہمیشہ درست نہیں ہوتے، مگر ووٹر کے رجحانات اور انتخابی جھکاؤ کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن آف انڈیا ایگزٹ پول این ڈی اے بھارتی ریاست بہار حکومت سازی سادہ اکثریت مہاگٹھ بندھن ووٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن آف انڈیا این ڈی اے بھارتی ریاست بہار حکومت سازی سادہ اکثریت ووٹ
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔