پاکستان سمیت دنیا بھرمیں ذیابیطیس کے مریضوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت ) پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ھورھا ھے جبکہ اس مرض سے ہونے والی اموات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش سے ذیابیطس سے بچاؤ ممکن ہے۔ یہ بات عالمی یومِ ذیابیطس کے حوالے سے سکھر پریس کلب میں ماہر ڈاکٹرز کیجانب سے آگہی پریس کانفرنس سے خطاب میں بتائی گئی،، اس موقع پر ڈاکٹرز حضرات نے ذیابیطس (شوگر) کے بڑھتے ہوئے خدشات، اس کی وجوہات، علامات، بچاؤ کی تدابیر اور علاج کے حوالے سے عوامی آگہی کیلئے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرینِ امراضِ ذیابیطس ہیڈ اف ڈیپارٹمنٹ غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر سینیئر پروفیسر ڈاکٹر افتخار علی شاہ، ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر بشیر چانڈیو، ڈاکٹر عبدالرشید دایو ، پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد سانگریو و دیگر نے عالمی سطح پر ذیابیطس سے ہونے والی اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شوگر کا مرض اب ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ شوگر کا مرض دل، گردوں، آنکھوں اور اعصاب پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے، جس سے پیچیدہ بیماریاں جنم لیتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ذیابیطس دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا خطرناک مرض بن چکا ہے، جس سے ہر عمر کے افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس مرض کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور ملک کی ایک بڑی آبادی اس بیماری میں مبتلا ہے۔ڈاکٹروں نے کہا کہ ذیابیطس کی بنیادی وجوہات میں غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا، ذہنی دباؤ اور موروثی عوامل شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے