سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عدیل کو ایک پوسٹر لگانے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جس پر دکانداروں کو بھارتی ایجنسیوں سے تعاون نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے ڈاکٹروں سمیت بے گناہ کشمیری جوانوں کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے ان نوجوانوں کو سرینگر، شوپیاں، گاندربل، پلوامہ اور کولگام اضلاع میں بڑے پیمانے پر کریک ڈائون اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیا۔ گرفتار کئے گئے نوجوانوں میں ڈاکٹر مزمل احمد گنائی اور ڈاکٹر عدیل احمد کے علاوہ عارف نثار ڈار، یاسر الاشرف، مقصود احمد ڈار، مولوی عرفان احمد اور ضمیر احمد آہنگر شامل ہیں۔ ادھر سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں نے بھارتی پولیس کی طرف سے جھوٹے الزامات کے تحت ڈاکٹروں سمیت کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بے بنیاد الزامات کے تحت پیشہ ور ڈاکٹروں خصوصا نوجوانوں کی گرفتاریاں ایک معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عدیل کو ایک پوسٹر لگانے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جس پر دکانداروں کو بھارتی ایجنسیوں سے تعاون نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری نژاد ڈاکٹر عدیل جواتر پردیش کے علاقے سہارنپور میں مقیم ہیں کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ڈاکٹر مزمل شکیل سمیت دیگر ڈاکٹروں کو بھی اس جھوٹے مقدمے میں ملوث کر دیا ہے۔ ڈاکٹر عدیل 24 اکتوبر 2024ء تک گورنمنٹ میڈیکل کمپلیکس اسلام آباد میں بطور سینئر ریزیڈنٹ خدمات انجام دے چکے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پولیس کا دعویٰ انتہائی کمزور اور غیر منطقی معلوم ہوتا ہے کیونکہ ڈاکٹروں کو ایک پوسٹر کی بنیاد پر گرفتار کر کے ان کا تعلق کسی عسکریت پسند تنظیم سے ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی شخص کیلئے صرف پوسٹر لگانے کیلئے اتنی دور سرینگر آنا انتہائی مشکل ہے، جہاں پہلے ہی ہر طرف نگرانی کیلئے کیمرے نصب ہیں۔ پولیس کا یہ دعویٰ بھی قابل قبول نہیں کہ ڈاکٹر عدیل نے رائفل ایک سال تک ہسپتال میں رکھی جبکہ وہ ادارہ گزشتہ سال ہی چھوڑ چکے ہیں۔

سہارن پور میں ڈاکٹر عدیل کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ان پر دبائو ڈال کر دیگر کشمیری ڈاکٹروں کو بھی اس کیس میں ملوث کیا، جن میں ڈاکٹر مزمل شکیل بھی شامل ہیں جن کی دلی کے قریبی علاقے فریدآباد میں واقع کلینک سے پولیس نے مبینہ طور پر دو AK-47 رائفلیں اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔ پولیس کمشنر فرید آباد کمار گپتا کے مطابق ضبط شدہ رائفلیں AK-47 نہیں تھیں، جس سے بھارتی پولیس کا دعوے مزید مشکوک ہو گیا ہے۔ اس بارے میں بھارتی میڈیا کے بیانات میں بھی واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ NDTV کی رپورٹ کے مطابق اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ڈاکٹر مزمل شکیل سے برآمد کیا گیا، جبکہ دیگر بھارتی ذرائع نے ان کا نام مفازل شکیل ظاہر کیا ہے۔ ٹائمز نائو کے مطابق ڈاکٹر کے پاس سے 2900کلو دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، جو تقریبا ایک ٹرک کے وزن کے برابر ہے جسے اپنے پاس خفیہ رکھنا کسی طور پر ممکن نہیں۔ یہ تضادات بھارتی فورسز کی ناقص کارکردگی اور غلط بیانی کو ظاہر کرتے ہیں۔

ان مضحکہ خیز تفصیلات سے صاف ظاہر ہے کہ بھارتی فورسز کے بے بنیاد دعوئوں میں کوئی صداقت نہیں۔ یہ واقعہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ نااہلی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارتی حکام نے کشمیریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے 2022ء سے مقبوضہ کشمیر میں دکانداروں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب لازمی قرار دے رکھی ہے اس کے علاوہ سرینگر اور دیگر شہروں میں بھی تقریبا ہر گلی میں سکیورٹی کیمرے نصب ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی قابض انتظامیہ کشمیری مسلمانوں کو مجرم بنا کر ان سے اعلیٰ عہدے چھینے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔

کشمیری ڈاکٹروں کو بھی بھارتی فورسز کی جانب سے بڑھتی ہوئی تذلیل اور جبر کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نئے انٹرن ڈاکٹروں کو تنخواہیں ادا نہیں کی جاتی جبکہ تجربہ کار ڈاکٹروں کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اپنے اندرونی سکیورٹی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی فورسز ڈاکٹر عدیل ڈاکٹر مزمل ڈاکٹروں کو پولیس نے کہ ڈاکٹر گیا ہے

پڑھیں:

اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

روم(ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے  الزام  میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اطالوی میڈیا کے مطابق  یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔

رپورٹ کے مطابق مرنے والے چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق واقعےکے بعد پولیس نے تحقیقات کیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، دونوں ملزمان بھی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری جناب  ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4  پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہےکہ  اطلاع ہےکہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے، جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ترجمان کے مطابق مقامی پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، ان میں فرانزک شواہد کا جائزہ  بھی شامل ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مزید پیشرفت کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

بجٹ 2026-27 ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار