سوڈان کے شہر العبید میں جنازے پر حملہ، 40 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
سوڈان کے وسطی صوبے کردفان کے اہم شہر العبید میں ایک جنازے پر حملے کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے دفتر نے بدھ کے روز اس واقعے کی تصدیق کی۔
???????? Over 36,000 Sudanese civilians have fled towns and villages in the Kordofan region east of Darfur, the United Nations said, just over a week after paramilitary forces overran the city of El-Fasher.
➡️ https://t.co/wcuNUq7tBB pic.twitter.com/8XlQckh0rV
— AFP News Agency (@AFP) November 3, 2025
بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملہ کب ہوا یا اس کے پیچھے کون ملوث تھا، تاہم واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز مبینہ طور پر شہر پر حملے کی تیاری کر رہی تھیں، جبکہ حکومتی فوج بھی انہیں روکنے کے لیے شہر کے اطراف میں جمع ہو رہی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر نے کہا کہ کردفان خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: آر ایس ایف نے 300 خواتین کو ہلاک، متعدد کیساتھ جنسی زیادتی کی، سوڈانی وزیر کا دعویٰ
رپورٹس کے مطابق کردفان کے تینوں صوبے، شمالی، مغربی اور جنوبی، حالیہ ہفتوں میں سوڈانی فوج اور آر ایس ایف ملیشیا کے درمیان شدید جھڑپوں کی لپیٹ میں ہیں۔
اسی دوران، 26 اکتوبر کو آر ایس ایف نے شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر قبضہ کر لیا، جہاں مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق شہریوں کے قتلِ عام کے واقعات پیش آئے۔
مزید پڑھیں: سوڈان: صدارتی محل بالآخر باغیوں سے آزاد کرالیا گیا
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ قبضہ سوڈان کے جغرافیائی تقسیم کو مضبوط کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، اور ملک دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آر ایس ایف العبید جغرافیائی تقسیم جنازے حملہ سوڈان شمالی دارفور کردفان ملیشیا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ر ایس ایف العبید جغرافیائی تقسیم حملہ سوڈان شمالی دارفور کردفان ملیشیا ا ر ایس ایف
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔