data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حماس تنظیم کا کہنا ہے کہ اسلحہ ترک کرنے کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے اور اس کے لیے فلسطینیوں کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے درکار ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ فلسطینیوں کو امن اور جنگ، دونوں فیصلوں پر جامع اتفاق تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ حماس غزہ میں سیکیورٹی کی ذمے داری حوالگی کے عمل پر متفقہ سمجھوتوں کے تحت عمل کی پابند ہے، اور یہ کہ تنظیم نے ثالثوں کے ذریعے غزہ کی مکمل انتظامی ذمے داری حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

قاسم نے مزید کہا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جانا چاہیے تاکہ معاہدے کے تمام مراحل مکمل ہوں۔ انھوں نے تنظیم کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے اور تمام یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی کے وعدے کی تجدید کی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب بدھ کی شام اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اب غزہ پٹی اسرائیل کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں رہے گی۔

کریات گات میں امریکی ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کا ہدف حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کو ایک غیر عسکری علاقے میں تبدیل کرنا ہے۔ ان کے مطابق تل ابیب واشنگٹن کے ساتھ مل کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت غزہ کی صورت حال تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا “ہم مرحلہ وار غیر مسلح کرنے پر کام کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ منصوبے کے دیگر پہلوؤں پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے”۔

ادھر قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اعلان کیا کہ ان کا ملک حماس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے اسلحے سے دست بردار ہونے کی ضرورت کو تسلیم کرے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ حماس غزہ کی حکومت چھوڑنے پر آمادہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کردہ غزہ جنگ بندی منصوبہ رواں ماہ (اکتوبر 2025) کی دس تاریخ سے نافذ ہوا۔ اس کے مطابق غزہ کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا اور ٹکنوکریٹس پر مشتمل ایک فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی جو ایک بین الاقوامی کمیٹی کی نگرانی میں علاقے کا نظم و نسق سنبھالے گی۔

اس سے قبل غزہ میں حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے پیر کو جاری بیان میں کہا تھا کہ اسلحے کا معاملہ زیرِ بحث ہے، لیکن یہ مسئلہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انھوں نے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل