data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور جنوبی سوڈان کی حکومت کی مشترکہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2026 کے دوران ملک کی نصف سے زیادہ آبادی غذائی بحران یا اس سے بھی بدتر حالات سے دوچار ہوگی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (IPC) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اپریل سے جولائی 2026 کے درمیان 7.

56 ملین افراد خوراک کی شدید کمی کا سامنا کریں گے جبکہ 20 لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت میں مبتلا ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں غذائی بحران کی بنیادی وجوہات مقامی تنازعات، شہری عدم تحفظ، اور سیلاب ہیں جنہوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا اور زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا۔

فی الحال 42 فیصد آبادی (تقریباً 5.97 ملین افراد) شدید غذائی عدم تحفظ میں مبتلا ہے، جن میں سے 1.3 ملین ہنگامی سطح (IPC فیز 4) اور 28 ہزار افراد تباہ کن سطح (IPC فیز 5) پر ہیں۔ اپر نیل کے علاقے لوکپنی/ناصِر کاؤنٹی میں قحط کے خطرے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے نمائندے میشک مالو نے کہا کہ  جنوبی سوڈان میں بھوک کی موجودہ صورتحال کھیتی باڑی کے نظام میں تعطل اور زرعی پیداوار کی کمی کا نتیجہ ہے۔ پائیدار امن اور زرعی نظام کی بحالی ہی بھوک کے خاتمے کی کنجی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چھ اضلاع میں 2026 تک غذائی قلت کی بدترین سطح پر پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کی وجوہات میں خانہ جنگی، بے دخلی، غذائی اشیاء تک محدود رسائی، پانی اور صحت کی سہولیات کی کمی، اور کولرا کے پھیلاؤ کو شامل کیا گیا ہے۔

جنوبی سوڈان کے وزیرِ زراعت و خوراک نے بتایا کہ دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران فصلوں کی کٹائی کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد میں معمولی کمی متوقع ہے، تاہم اگلے سیزن میں یہ تعداد دوبارہ بڑھ کر 7.56 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اقوام متحدہ اور شراکت دار اداروں کے تعاون سے فنڈز کی قلت کے باوجود متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے اضافی اقدامات کرے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جنوبی سوڈان گیا ہے

پڑھیں:

میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔

مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے

تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ