جنوبی سوڈان میں بھوک کی سنگین صورتحال، 2026 میں 75 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور جنوبی سوڈان کی حکومت کی مشترکہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2026 کے دوران ملک کی نصف سے زیادہ آبادی غذائی بحران یا اس سے بھی بدتر حالات سے دوچار ہوگی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (IPC) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اپریل سے جولائی 2026 کے درمیان 7.
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں غذائی بحران کی بنیادی وجوہات مقامی تنازعات، شہری عدم تحفظ، اور سیلاب ہیں جنہوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا اور زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا۔
فی الحال 42 فیصد آبادی (تقریباً 5.97 ملین افراد) شدید غذائی عدم تحفظ میں مبتلا ہے، جن میں سے 1.3 ملین ہنگامی سطح (IPC فیز 4) اور 28 ہزار افراد تباہ کن سطح (IPC فیز 5) پر ہیں۔ اپر نیل کے علاقے لوکپنی/ناصِر کاؤنٹی میں قحط کے خطرے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے نمائندے میشک مالو نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں بھوک کی موجودہ صورتحال کھیتی باڑی کے نظام میں تعطل اور زرعی پیداوار کی کمی کا نتیجہ ہے۔ پائیدار امن اور زرعی نظام کی بحالی ہی بھوک کے خاتمے کی کنجی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چھ اضلاع میں 2026 تک غذائی قلت کی بدترین سطح پر پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کی وجوہات میں خانہ جنگی، بے دخلی، غذائی اشیاء تک محدود رسائی، پانی اور صحت کی سہولیات کی کمی، اور کولرا کے پھیلاؤ کو شامل کیا گیا ہے۔
جنوبی سوڈان کے وزیرِ زراعت و خوراک نے بتایا کہ دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران فصلوں کی کٹائی کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد میں معمولی کمی متوقع ہے، تاہم اگلے سیزن میں یہ تعداد دوبارہ بڑھ کر 7.56 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اقوام متحدہ اور شراکت دار اداروں کے تعاون سے فنڈز کی قلت کے باوجود متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے اضافی اقدامات کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی سوڈان گیا ہے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔