بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کیس کی جلد سماعت مقرر کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروادی۔
روزنامہ جنگ کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ جوڈیشل پالیسی کے مطابق ضمانت اور سزا معطلی کی درخواستوں کو ترجیحی بنیاد پر سنا جاتا ہے، درخواست گزار کے کیس کو بلا جواز پسِ پشت ڈالا جارہا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا کیس مقرر نہ کرنا ویمن پروٹیکشن ایکٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے منافی ہے۔
نیوزی لینڈ کے ٹم سیفرٹ ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز سے باہر ہوگئے
بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے جبکہ درخواست میں نیب کو فریق بنایا گیا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سزا معطلی کی کی درخواست
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔