بشریٰ بی بی نے عدالت سے سزا معطلی کیس کی جلد سماعت کی درخواست کر دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کیس کی جلد سماعت مقرر کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروادی۔ درخواست میں کہا گیا کہ جوڈیشل پالیسی کے مطابق ضمانت اور سزا معطلی کی درخواستوں کو ترجیحی بنیاد پر سنا جاتا ہے، درخواست گزار کے کیس کو بلا جواز پسِ پشت ڈالا جارہا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا کیس مقرر نہ کرنا ویمن پروٹیکشن ایکٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے منافی ہے۔ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے جبکہ درخواست میں نیب کو فریق بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سزا معطلی کی کی درخواست
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔