پی ایف یو جے ورکرزکے زیر اہتمام صحافیوں کو درپیش سنگین صورتحال کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پی ایف یو جے ورکرزکے زیر اہتمام صحافیوں کو درپیش سنگین صورتحال کیخلاف احتجاجی مظاہرہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز (پی ایف یو جے ورکرز)کے زیر اہتمام صحافی طاہر نصیر سمیت دیگر صحافیوں کو درپیش سنگین صورتحال اور مبینہ جان لیوا دھمکیوں کیخلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں صحافتی تنظیموں کے نمائندگان، کارکن صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ مختلف شعبہ جات کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے ورکرز کی صدر ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کہا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاہر نصیر کی جان لینے کی غرض سے کی گئی ریکی اور اس میں ملوث عناصر کی عدم گرفتاری نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ یہ آزادی صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جڑواں شہروں کے صحافی شدید خدشات اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ اداروں کی بے حسی اور لاتعلقی انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا مقامی اخبار کے رپورٹر طاہر نصیر پر مافیا کی طرف سے قاتلانہ حملہ کی سازش کی شدید مذمت کی جاتی ہے اس ناپاک سازش میں شریک اجرتی قاتلوں کی گرفتاری ناکافی ہے۔حکومت اصل مجرموں کو گرفتار کرے اور قرارواقعی سخت سزائیں دے ،اس موقع پر مختلف میڈیا ہاوسز نیوزون ٹی وی،ابتک ٹی وی جی این نیوز ودیگر میڈیا ہاوسز میں صحافیوں کی جبری بے دخلیوں,معاشی قتل پر ٹھوس لائحہ بھی پیش کیا گیا,فارغ کیے جانیوالے صحافیوں کے حوالے سے بھی احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا
احتجاجی مظاہرے سے سیکرٹری فنانس جاوید ملک، سیکرٹری اطلاعات عمران چودھری، آر آئی یو جے کے جنرل سیکرٹری حمید اللہ عابد، اپنیک کے صدر صدیق انظر، سینئر صحافی رہنما اسحاق چوہدری سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ صحافیوں کی جان، روزگار اور اظہار رائے کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے مگر افسوس کہ نہ تو صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا نوٹس لیا جا رہا ہے اور نہ ہی میڈیا اداروں میں جبری برطرفیوں کے خلاف کوئی عملی اقدام سامنے آیا ہے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ صحافی طاہر نصیر کو فوری اور فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے، جبکہ ان کی جان لینے کی مبینہ سازش میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کی کسی بھی کوشش کے سامنے پوری صحافی برادری متحد ہو کر کھڑی ہے اور ہر قیمت پر اپنے حقوق کا دفاع کریگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، حارث روف پر دو میچز کی پابندی عائد غزہ میں عالمی فوج کی تعیناتی کیلئے امریکا نے اقوام متحدہ سے منظوری مانگ لی پیمرا کو منشیات کے خاتمےسے متعلق چینلز پر پرائم ٹائم کے دوران آگاہی مہم چلانے کی ہدایت قلات: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں بھارتی سرپرستی یافتہ 4 دہشتگرد ہلاک پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن بحال، انتظامیہ نے پروازوں کے لیے متبادل راستے اپنانا شروع کر دیے صدرِ مملکت آصف علی زرداری تین روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے اسلام آباد: پارلیمنٹ لاجز کا 13 برس سے زیر التواء نیا بلاک تکمیل کے قریبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی ایف یو جے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔