غلط یا ڈپلیکیٹ ای چالان گھر بیٹھے منسوخ کرنے کا طریقہ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : غلط یا ڈپلیکیٹ ای چالان منسوخ کرنے کے لیے اب شہری گھر بیٹھے اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر کے ذریعے درخواست جمع کراسکتے ہیں۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ایک نیا آن لائن پورٹل متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے شہری غلط یا ڈپلیکیٹ ای چالان منسوخ کرا سکتے ہیں اور اس کے لیے PSCA آفس جانے یا قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اتھارٹی نے بتایا کہ اگر کسی ڈرائیور کو ایک ہی خلاف ورزی پر متعدد چالان موصول ہوں، جو سسٹم یا تکنیکی خرابی کے باعث جاری ہوئے ہوں، تو وہ اب اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر کے ذریعے درخواست جمع کراسکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کل سرکاری دورے پر برازیل روانہ ہوں گی
چالان منسوخ کرانے کا طریقہ
PSCA کے ای چالان پورٹل پر جائیں۔
اپنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر اور شناختی کارڈ نمبر (CNIC) درج کریں۔
پورٹل پر موجود “Review” آپشن پر کلک کریں۔
مسئلے کی مختصر وضاحت لکھیں، مثال کے طور پر “مجھے ایک ہی تاریخ اور وقت کے لیے دو چالان موصول ہوئے ہیں۔”
اتھارٹی نے مزید بتایا کہ یہ نیا سسٹم شکایات کے ازالے کے عمل کو تیز کرے گا، دفاتر پر بوجھ کم کرے گا، اور غلط یا ڈپلیکیٹ چالانز کو فوری حذف کرنے میں مدد دے گا۔
پنجاب حکومت نے ٹرانسپورٹ اور جائیداد کی لیز پر عائد ٹیکس معطل کر دیا
مزید سہولت کے لیے PSCA نے “Public Safety” ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جو اینڈرائیڈ اور iOS دونوں پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے۔ اس ایپ کے ذریعے بھی شہری اپنے ای چالان کا جائزہ لے سکتے ہیں اور ریویو یا منسوخی کی درخواست جمع کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔