27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق تفصیل سے بات ہوچکی: شرجیل انعام میمن
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ن لیگ نے ہم سے رابطہ کیا ہے، 27 ویں ترمیم سے متعلق سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی میں مشاورت ہوگی، جو بھی فیصلہ ہوگا سی ای سی میں ہوگا، 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق تفصیل سے بات ہوچکی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 27ویں ترمیم سے متعلق پیپلز پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی پاکستان کے حق میں ہوگا، جب تک فیصلے نہ ہوں تب تک میرے خیال میں بات نہیں کرنی چاہیے، تمام ترامیم سی ای سی میں پیش ہوں گی اور اکثریتی رائے سے فیصلہ ہوگا۔
شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ضرورت کے تحت آئین میں ترمیم کی جاتی ہے، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی 27 ویں ترمیم سے متعلق فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی ای سی کی میٹنگ میں یہ ایجنڈا ضرور ہوگا، سی ای سی فیصلہ کرے گی آزاد کشمیر میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کب آئے گی۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے ای چالان سسٹم شروع کیا گیا ہے، ہمارے اس اقدام سے شہر میں بہتری نظر آ رہی ہے، ہمیں چالان کی مد میں ایک روپیہ بھی نہیں چاہیے، سی ایم نے بھی کہا ہے پہلے چالان پر وارننگ کریں گے، پہلے چالان کی معافی کے لیے شہریوں نے اپیل بھی کی ہے۔
اِن کا کہنا تھا کہ نئے ٹریفک قوانین سے بہتری آئی ہے، ٹریفک چالان کی وجہ سے حادثات میں کمی آ رہی ہے، ڈمپر واقعے میں جو لوگ ملوث ہیں وہ گرفتار ہوئے ہیں، ہم وہ فیصلے کریں گے جو عوام کے حق میں بہتر ہوں، ہم چاہتے ہیں لوگ ٹریفک قوانین پر عمل کریں، کسی کا ایک روپیہ بھی نہ جائے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ٹریفک چالان پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنے سے جانیں جاتی ہیں، ای چالان کا مقصد ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے، ٹریفک قوانین ہم نے تبدیل کیے کیونکہ پچھلے قوانین پر عمل نہیں ہو رہا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قوانین پر عمل ٹریفک قوانین سی ای سی
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔