کراچی میں ای چالان: جگہ جگہ گڑھے، سگنلز خراب، زیبرا کراسنگ اور سڑکوں سے لائنیں غائب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ٹریفک کے نئے نظام (ٹریکس) کے نفاذ سے قبل ہی شہر کا بنیادی ٹریفک انفرا اسٹرکچر سنگین بحران کا شکار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کی 60 فیصد سے زائد سڑکیں ٹوٹ پھوٹ اور تباہ حالی کا شکار ہیں، جن کی تعمیر و مرمت کو چھوڑ کر ای چالان کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ شہر کی 90 فیصد شاہراہوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے زیبرا کراسنگ موجود نہیں اور نہ ہی موٹر سائیکل سواروں کے لیے کوئی مخصوص لائن متعین ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ شاہراہوں پر ٹریفک کو منظم کرنے والے بیشتر سگنلز بھی یا تو غائب ہیں، یا درست کام نہیں کرتے جب کہ بیشتر سگنلز میں ڈیجیٹل ٹائم کا نظام بھی موجود نہیں ہے۔
اسی طرح ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ جب شہر کی کسی بھی شاہراہ پر گاڑیوں کی رفتار کی کوئی حد مقرر نہیں تو اوور اسپیڈنگ کے چالان کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں؟ اس کے علاوہ، شاہراہوں پر انجینئرنگ کے نقائص، پلوں کے جوائنٹس کے مسائل اور سیوریج کے پانی سے سڑکوں کی تباہی ٹریفک قوانین کی پاسداری کو عملی طور پر ناممکن بنا رہے ہیں۔
حکومتی اداروں بشمول کے ایم سی کی جانب سے سڑکوں کی مرمت کے دعوے کیے جا رہے ہیں تاہم مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔