بنیادی انفرا اسٹرکچر کے بغیر ای چالان سسٹم کا نفاذ: کراچی کی سڑکوں پر سوالیہ نشان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ٹریفک کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے نافذ کیے گئے ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائٹیشن سسٹم (ٹریکس) نے شہریوں، ماہرین اور سیاسی حلقوں میں شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔
27 اکتوبر سے نافذ العمل ہونے والے اس ڈیجیٹل ای چالان نظام کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ شہر میں ٹریفک سے متعلق بنیادی انفرا اسٹرکچر کا تباہ حال ہونا ہے۔ اربن پلانرز اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کی 60 فیصد سے زائد سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جب کہ اندازاً 80 فیصد سے زائد شاہراہوں پر ٹریفک کے اشارے (سگنلز) اور علامات نصب ہی نہیں ہیں، یا درست کام نہیں کررہے۔ ایسے میں ٹریفک مینجمنٹ قائم کیے بغیر جدید ترین مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ خودکار نظام (ٹریکس) کس طرح کامیابی سے کام کرے گا، یہ ایک بڑا سوال ہے۔
شہری حلقوں کی جانب سے تحفظات کا دوسرا اہم نکتہ جرمانوں کی غیر معمولی حد تک زیادہ شرح ہے، جو 5 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہے۔ شہریوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بے روزگاری اور کم آمدنی والے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اتنے بھاری جرمانے کیسے ادا کر پائیں گے۔
قانون دانوں اور سیاسی رہنماؤں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ جب ملک کے دیگر شہروں مثلاً لاہور میں چالان کی شرح بہت کم ہے تو کراچی کے شہریوں پر اتنا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے، جو آئینی طور پر ایک ملک میں دو قوانین کی موجودگی پر سوال کھڑا کرتا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے اس نظام کو ظالمانہ رویہ قرار دیتے ہوئے نہ صرف عوامی احتجاج بلکہ عدالتوں میں قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد اس نظام کا مستقبل اب سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے سے منسلک ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا تعین اوگرا کی جانب سے کیا گیا ہے جو آج رات 12 بجے سے کل رات 12 بجے تک نافذ العمل ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا۔