امریکا میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ 5 ہزار قدم چلنے سے دماغ الزائمر کی بیماری سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

تحقیق میں تقریباً 300 معمر افراد کو 14 سال تک فالو کیا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے دماغ میں بیٹا ایمائلائڈ نامی پروٹین کی مقدار زیادہ تھی جو الزائمر کی ابتدائی علامت ہے، اگر وہ جسمانی طور پر فعال تھے تو ان میں ذہنی تنزلی کی رفتار کم دیکھی گئی۔

یہ تحقیق 3 نومبر کو نیچر میڈیسن (Nature Medicine) میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ اگرچہ ورزش سے بیٹا ایمائلائڈ کی مقدار کم نہیں ہوتی، تاہم یہ ٹاؤ (Tau) نامی زہریلے پروٹین کی افزائش کو سست کر دیتی ہے، جو دماغی خلیات کو براہ راست نقصان پہنچاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہلکی سے معتدل جسمانی سرگرمی بھی واضح فرق پیدا کرتی ہے، روزانہ 5 سے 7 ہزار 500 قدم چلنے والے افراد میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار اُن لوگوں کے مقابلے میں آدھی تھی جو زیادہ تر غیر فعال تھے۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ 10 ہزار سے زیادہ قدم چلنے سے اضافی فائدہ نہیں ہوتا، یعنی دماغ کی حفاظت کے لیے 5 ہزار قدم روزانہ ہی کافی ہیں۔

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر وینڈی یاو (Dr.

Wendy Yau) کا کہنا ہے کہ ہمیں طرزِ زندگی کے اُن عوامل کی اہمیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے جنہیں لوگ خود اپنا کر دماغی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکا میں تقریباً 70 لاکھ افراد الزائمر کے مرض میں مبتلا ہیں اور یہ تعداد 2060 تک دوگنی ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ ادویات جیسے Kisunla اور Leqembi بیماری کی رفتار کو کم کرتی ہیں، تاہم باقاعدہ جسمانی سرگرمی اب بھی الزائمر سے بچاؤ کا ایک مؤثر اور قابلِ عمل طریقہ ہے۔

محققین نے واضح کیا کہ یہ مطالعہ مشاہداتی نوعیت کا تھا، اس لیے یہ ثابت نہیں کرتا کہ چلنے سے الزائمر براہِ راست روکا جا سکتا ہے، مگر یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ باقاعدہ چہل قدمی دماغی صحت کو بہتر رکھنے اور بیماری کی ابتدائی علامات کو سست کرنے میں مددگار ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود