ایوارڈ شو میں 8 ہزار لوگوں کو دیکھ کر گھبرا گئی تھی: رمشا خان
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ رمشا خان نے انکشاف کیا ہے کہ میں انٹروورٹ ہوں اور اسٹیج پر پرفارم کرتے ہوئے مجھے انزائٹی محسوس ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ ایوارڈ شو کے دوران 8 ہزار لوگوں کو دیکھ کر میں گھبرا گئی تھی۔
حال ہی میں اداکارہ نے ایک انٹرویو کے دوران اضطراب، بے چینی، گھبراہٹ کے حوالے سے بات چیت کی۔
View this post on InstagramA post shared by Onair Pragency (@onair.
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ انٹروورٹ ہونے کی وجہ سے بطور پرفارمر اکثر اضطراب محسوس کرتی ہوں بظاہر لوگوں کو پتہ نہیں چلتا لیکن جب میں اسٹیج پر ہوتی ہوں تو میرے ہاتھ خوف سے کانپ رہے ہوتے ہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ حالیہ ایوارڈ شو میں شجاع اسد کے ساتھ ڈانس پرفارمنس کے دوران 8 ہزار لوگوں کو دیکھ کر اس حد تک گھبرا گئی تھی کہ میرے ہاتھ پیر نہیں اُٹھ رہے تھے۔
رمشا کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑی خرابی ہے، یہ اچھا احساس نہیں ہے اور مجھے نہیں پتہ کہ اس پر کیسے قابو پاسکتی ہوں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں امریکا میں منعقد ہونے والے ایوارڈ شو کے دوران رمشا خان نے ساتھی اداکار شجاع اسد کے ساتھ ڈانس پرفارم کیا تھا جو شدید تنقید کی زد میں آگیا تھا۔ بعض صارفین نے اداکارہ کے ڈانس موو پر انہیں ٹرول بھی کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایوارڈ شو کے دوران لوگوں کو
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔