ماضی کے ریپر ظہران ممدانی عرف ’چھوٹی الائچی‘ کا اپنی نانی پر گانا مشہور کیوں ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کی زندگی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے وہ ایک مشہور ریپر کے طور پر پہچانے جاتے تھے، جنہیں ان کے مداح ”ینگ کارڈامم“ (چھوٹی الائچی) اور بعد میں ”مسٹر کارڈامم“ کے نام سے جانتے تھے۔
ظہران ممدانی نے ابتدا میں بطور ”فورکلوژر پریونشن کاؤنسلر“ کام کیا، لیکن موسیقی ان کا جنون تھی۔ وہ راتوں کو ریپ گانے ریکارڈ کرتے، جن میں سب سے مشہور ان کا گانا ”نانی“ تھا، جو 2019 میں ریلیز ہوا۔
یہ گانا اپنی نانی کے نام ایک مزاحیہ خراجِ تحسین تھا، جس میں مشہور اداکارہ اور کُک بُک مصنفہ مدھور جعفری نے بھی کام کیا۔ گانے کے دلچسپ بول اور ویڈیو نے یوٹیوب پر دو لاکھ سے زیادہ ویوز حاصل کیے جبکہ اس کے 43 ہزار سے زائد اسٹریمز اسپاٹیفائی پر ریکارڈ کیے گئے۔
ظہران ممدانی کا تعلق ایک تعلیم یافتہ اور فنکار گھرانے سے ہے۔ ان کے والد محمود ممدانی معروف افریقی نژاد اسکالر ہیں جبکہ والدہ میرا نائر مشہور فلم ساز ہیں جنہوں نے ہالی ووڈ فلم “کوئین آف کٹوے” بنائی۔ اسی فلم کے لیے ظہران نے اپنے دوست عبدالحسین المعروف ایچ اے بی کے ساتھ ایک گانا “اسپائس نمبر 1” بھی لکھا، جس میں معروف اداکارہ لوپیٹا نیونگ’و نے بھی حصہ لیا۔
ظہران کے ریپ گانوں میں افریقی اور جنوبی ایشیائی ثقافت کی جھلک نمایاں تھی۔ ان کے 2016 کے ایلبم “Sidda Mukyaalo” میں چھ زبانوں میں گانے شامل تھے، جو نوآبادیاتی معاشروں، رنگ و نسل کے امتیاز، اور شہری زندگی کی جدوجہد پر مبنی تھے۔ خود ظہران کا کہنا تھا کہ “میں گاؤں واپس نہیں جا سکتا، کیونکہ میں ایک ایشیائی یوگنڈن ہوں میرا گاؤں تو یہ شہر ہی ہے۔”
وقت گزرنے کے ساتھ موسیقی سے سیاست تک کا سفر طے کرنے والے ظہران نے نیویارک کے شہریوں میں اپنی عوام دوست پالیسیوں اور مزاحیہ مگر سنجیدہ اندازِ گفتگو سے جگہ بنائی۔ نیویارک کے میئر کے الیکشن میں انہوں نے سابق گورنر اینڈریو کومو جیسے قد آور حریف کو شکست دے کر تاریخ رقم کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ الیکشن مہم کے دوران ظہران ممدانی کے پرانے ریپ ویڈیوز دوبارہ وائرل ہو گئے، اور لوگوں نے انہیں ایک ایسے سیاستدان کے طور پر دیکھا جو عام شہریوں کی زبان میں بات کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کا یہ منفرد پس منظر ہی انہیں نیویارک کے ووٹرز میں مقبول بنانے کا اصل سبب بنا۔
یوں ایک وقت کا “بی لسٹ ریپر” آج نیویارک شہر کا میئر ہے اور شاید یہی ظہران ممدانی کی کہانی کا سب سے حسین موڑ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیویارک کے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔