ہم نے ایک سیاسی بادشاہت اُلٹ دی، ظہرانی ممدانی کا جیت کے بعد پہلا خطاب
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
نیویارک سٹی کے نو منتخب اور پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے اپنی کامیابی کے بعد پرجوش خطاب میں اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا۔
خود کو ڈیموکریٹ سوشلسٹ کہنے والے 34 سالہ ظہران ممدانی نے کہا کہ مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے ایک سیاسی بادشاہت اُلٹ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی تمام تر دھونس دھمکیاں ناکام، ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر منتخب
انہوں نے اپنے حریف اینڈریو کومو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں نجی زندگی میں بہترین تمنائیں دیتے ہیں، تاہم مزید کہا کہ لیکن آج رات ان کا نام میں آخری بار لے رہا ہوں، کیونکہ ہم ایسی سیاست کو خیرباد کہہ رہے ہیں جو چند لوگوں کے مفاد میں ہوتی ہے۔
ممدانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام نے تبدیلی کے مینڈیٹ کے لیے ووٹ دیا ہے ایسی سیاست کے لیے جو سب کے لیے ہو، اور ایک ایسے شہر کے لیے جو ہم برداشت کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ مسلمان خود کو اس شہر کا حصہ سمجھیں، نیویارک میں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں۔ ممدانی تقریر کے دوران قرآنی آیات بھی پڑھتے رہے۔
آخر میں انہوں نے پُرجوش انداز میں اپنی جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یکم جنوری کو میں نیویارک سٹی کے میئر کے طور پر حلف اٹھاؤں گا۔
اجتماع میں موجود حامیوں نے ممدانی کے یہ الفاظ سن کر زبردست تالیاں اور نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔