موبائل گم ہونے کا معاملہ: کورئیر کمپنی کو صارف کو موبائل اور جرمانہ ادا کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ ہائیکورٹ نے نجی کورئیر کمپنی کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے کنزیومر کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور کمپنی کو ہدایت کی کہ وہ صارف کو اس کا گمشدہ موبائل فون اور جرمانے کی رقم ادا کرے۔
تفصیلات کے مطابق محمد شاہد نامی صارف نے اپنا موبائل فون ایک نجی کورئیر کمپنی کے ذریعے لاہور بھیجا تھا، تاہم فون منزل تک نہ پہنچ سکا اور دورانِ ترسیل گم ہوگیا۔ متاثرہ صارف نے معاملہ کنزیومر کورٹ میں اٹھایا، جہاں عدالت نے کمپنی کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 45 ہزار روپے جرمانے کا حکم دیا تھا۔
کورئیر کمپنی نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا، مگر چھ سال بعد جسٹس ارشد حسین خان پر مشتمل سنگل بینچ نے کنزیومر کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کورئیر کمپنیوں پر صارفین کی اشیاء کی حفاظت کی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس لیے کمپنی صارف کے نقصان کی مکمل تلافی کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کورئیر کمپنی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔