Jang News:
2026-07-24@04:42:19 GMT

وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

وزیرِ دفاع خواجہ آصف—فائل فوٹو

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے امریکی ناظم الامور نے ملاقات کی ہے۔

اس حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی احترام، استحکام اور مشترکہ مقاصد پر مبنی دیرینہ تعلقات ہیں، فریقین نے دو طرفہ تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ڈپلومیٹک انکلیو میں پیڈل ٹینس کورٹ اور فٹنس ایرینا کا افتتاح

محسن نقوی، امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر اور چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے پیڈل ٹینس کھیلی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور بڑھتی گرمجوشی کو سراہا گیا، امریکی ناظم الامور نے بین الاقوامی برادری میں ذمے دار اور مستقبل کے شراکت دار کے طور پر پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔

ملاقات کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں افغانستان کی صورتِ حال پر بھی بات چیت ہوئی، فریقین نے ایک پُرامن، مستحکم اور محفوظ افغانستان کی اہمیت پر زور دیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے اتفاق کیا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے افغان سر زمین سے پیدا چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹا جانا چاہیے۔

ملاقات کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات میں مزید مستحکم اور متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: امریکی ناظم الامور ملاقات میں

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم