وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف—فائل فوٹو
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے امریکی ناظم الامور نے ملاقات کی ہے۔
اس حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی احترام، استحکام اور مشترکہ مقاصد پر مبنی دیرینہ تعلقات ہیں، فریقین نے دو طرفہ تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
محسن نقوی، امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر اور چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے پیڈل ٹینس کھیلی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور بڑھتی گرمجوشی کو سراہا گیا، امریکی ناظم الامور نے بین الاقوامی برادری میں ذمے دار اور مستقبل کے شراکت دار کے طور پر پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔
ملاقات کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں افغانستان کی صورتِ حال پر بھی بات چیت ہوئی، فریقین نے ایک پُرامن، مستحکم اور محفوظ افغانستان کی اہمیت پر زور دیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے اتفاق کیا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے افغان سر زمین سے پیدا چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹا جانا چاہیے۔
ملاقات کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات میں مزید مستحکم اور متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: امریکی ناظم الامور ملاقات میں
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔