واشنگٹن میں اس ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان کی فارن افیئرز سب کمیٹی برائے جنوبی و وسطی ایشیا کی سماعت میں یہ بات نمایاں رہی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل پاکستان کو ‘کلیدی علاقائی شراکت دار’ قرار دیتے آ رہے ہیں، جبکہ ان کی انتظامیہ بھارت کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سماعت کے دوران ارکانِ کانگریس اور ماہرین نے واشنگٹن کی بھارت پالیسی پر سخت اختلافات کا اظہار کیا۔ گواہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف، ویزا پابندیوں اور سیاسی بداعتمادی نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو ‘سیاسی جمود’ کا شکار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، دفتر خارجہ

کنزرویٹو تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ماہر جیف اسمتھ نے اعتراف کیا کہ تعلقات ‘گہرے پانیوں’ میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس تناؤ کی وجہ ایک جانب ٹرمپ کے بھاری ٹیرف ہیں، تو دوسری جانب پاکستان کے ساتھ امریکی رابطوں پر بھارت کی بےچینی۔

ڈیموکریٹ رکن کانگریس سِڈنی کاملاگر ڈَو نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ جولائی میں دستخط کے قریب تھا مگر وائٹ ہاؤس نے اسے اچانک واپس لے لیا، اور اس کے بجائے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف اور روسی تیل کی درآمد پر 25 فیصد نیا ٹیرف نافذ کیا گیا۔

ان کے مطابق یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ بھارت بدلتی عالمی سیاست میں ابھی بھی روس اور چین کے قریب رہنے کی حکمتِ عملی پر گامزن ہے۔

انہوں نے نئے ایچ ون بی ویزا فیس پر بھی تنقید کی، جس سے بھارتی آئی ٹی اور میڈیکل پروفیشنلز سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ان پالیسیوں سے اعلیٰ سطحی مصروفیات منجمد ہو گئیں اور کوآڈ لیڈرز سمٹ بھی مؤخر کرنی پڑی۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت کی دوہری پالیسی مہنگی پڑ گئی، امریکا نے 50 فیصد تک ٹیکس لگا دیا

واشنگٹن اسٹیٹ کے ری پبلکن رکن کانگریس مائیک باؤمگارٹنر نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارت واقعی امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے میں سنجیدہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج پر ایک کتاب میں روس کے ساتھ بھارتی مشقوں کی نمایاں تصاویر تھیں، جبکہ امریکا کے ساتھ مشقیں محض ایک چھوٹے خانے میں دکھائی گئیں۔

سماعت میں یہ نکتہ بھی ابھرا کہ کانگریس کے سخت بیانیے کے برعکس صدر ٹرمپ پاکستان کے بارے میں پورے سال نرم لہجہ اختیار کیے رہے۔ انہوں نے 30 سے زائد بار پاکستان کی تعریف کی، اسے ‘کلیدی علاقائی شراکت دار’ کہا اور بھارت پاکستان کشیدگی کے بعد کسی ایک فریق کو ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کیا۔

تحلیل کاروں نےاعتراف کیا کہ ٹرمپ کے بیانات نے بھارت میں سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بھارت اور پاکستان نے طیاروں کی تباہی کے دعوؤں اور جوابی بیانات کی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

اوبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن امریکا کے دھروَہ جیشَنکر نے کہا کہ پاکستان کی عسکری قیادت کے ساتھ حالیہ امریکی رابطے بھارت کے لیے تشویشناک ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حل طلب تجارتی تنازعات بھارت میں ‘سیاسی مخاصمت’ کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: امریکی کانگریس کا مبینہ خط: پی ٹی آئی کی کہانی جھوٹ کا پلندہ ثابت، امریکی حکام کی تردید

جیشَنکر نے باور کرایا کہ امریکا بھارت تعلقات آگے بڑھ سکتے ہیں، مگر اس کے لیے پاکستان سے متعلق پالیسی اور تجارتی تنازعات کو درست طریقے سے سنبھالنا ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے دفاعی تعاون میں جاری پیش رفت 10 سالہ تعاون فریم ورک، مشترکہ پیداوار، ناسا اسرو سیٹلائٹ، اور بھارت کے انسانی خلائی مشن میں امریکی معاونت کو اہم قرار دیا۔

جرمن مارشل فنڈ کے سمیر لالواِنی نے کہا کہ بھارت عالمی نظام میں ایک ‘خودمختار قطب’ بننے کی کوشش کر رہا ہے، نہ کہ امریکی اتحاد کا حصہ بننے کی۔ جبکہ جیف اسمتھ کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت کے ساتھ امریکی روابط نے بھارت میں سیاسی بےچینی بڑھائی ہے۔

سماعت نے واضح کر دیا کہ امریکا بھارت تعلقات کا اصل ستون سیاسی اعتماد اس وقت دباؤ کا شکار ہے۔ اور جیسے جیسے واشنگٹن جنوبی ایشیا میں اپنے تزویراتی آپشنز پر نظرِ ثانی کر رہا ہے، پاکستان کا کردار دوبارہ امریکی بحث کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا بھارت پاکستان تعلقات کانگریس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا بھارت پاکستان تعلقات کانگریس بھارت کے کہ بھارت انہوں نے کے ساتھ کیا کہ رہا ہے کہا کہ

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار