سپریم کورٹ کا متاثرہ خاتون کو نان نفقہ فوری ادا کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سپریم کورٹ نے نان نفقہ کی عدم ادائیگی کے کیس میں متاثرہ خاتون کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ رقم فوراً ادا کی جائے۔
عدالت نے شوہر کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ نکاح نامہ میں واضح تحریر موجود ہونے کے باوجود تاخیر قابلِ قبول نہیں۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ میں نان نفقہ کی عدم ادائیگی کا کیس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنا۔ عدالت نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب معاہدہ نکاح نامے میں درج ہے تو ادائیگی میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ متاثرہ خاتون برسوں سے اپنے حق کے لیے دربدر پھر رہی ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے 2013 میں فیصلہ سناتے ہوئے 20 تولہ سونا اور دو لاکھ روپے نقد متاثرہ خاتون کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے شوہر کی اپیل مسترد کردی اور ہدایت جاری کی کہ نان نفقہ کی ادائیگی اب مزید تاخیر کے بغیر فوراً یقینی بنائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: متاثرہ خاتون سپریم کورٹ
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔