کراچی میں ای چالان سسٹم کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں ای چالان سسٹم کیخلاف درخواست دائر کردی گئی، درخواست صدر مرکزی مسلم لیگ کراچی احمد ندیم اعوان کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں حکومت سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی، نادرا اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ کراچی کا مکمل انفرااسٹرکچر تباہ ہے، شہر بھر میں سڑک نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔
ایسے میں شہریوں پر بھاری بھرکم چالان/جرمانے کرنا کسی عذاب سے کم نہیں، چالان کی آڑ میں شہریوں کو شناختی کارڈ بلاک کرنے کی دھمکیاں دینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
درخواست کے مطابق سندھ کے حکمران دوسرے صوبوں سے ترقی پر مقابلہ کرنے نکلے تھے، لیکن یہ تو چالان کرنے میں مقابلہ کر رہے ہیں۔
لاہور میں چالان کا جرمانہ 200 اور کراچی والوں کے لیے 5000 کیوں؟ کراچی پڑھے لکھے قانون کی حفاظت کرنے والوں لوگوں کا شہر ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔