’روبلوکس سے ہاتھ ہٹاؤ‘ روس میں بچوں کے گیمنگ پلیٹ فارم پر پابندی کیخلاف مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
روس کے سائبیرین شہر ٹومسک میں درجنوں افراد نے امریکی بچوں کے گیمنگ پلیٹ فارم روبلوکس پرعائد پابندی کے خلاف احتجاج کیا۔
یہ احتجاج روس میں عوامی اختلافِ رائے کا ایک نادر مظاہرہ تھا، کیونکہ اس پابندی پر عوامی ناراضی میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
جنگ کے دوران روس میں سنسرشپ سخت ہے، ماسکو نے اسنیپ چیٹ، فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک یا محدود کر رکھا ہے، جبکہ ریاست اپنے بیانیے کو سوشل میڈیا کے نیٹ ورک اور روسی میڈیا کے ذریعے پھیلا رہی ہے۔
Russians took to the streets in protest
But not because of the war, in which Russian troops are killing civilians in a neighboring country — instead, they protested the blocking of the gaming platform Roblox.
Despite the fact that the rally was approved by the authorities and… pic.twitter.com/teyEe41w3U
— NEXTA (@nexta_tv) December 14, 2025
روس کے مواصلاتی نگران ادارے روسکومنادزور نے 3 دسمبر کو کہا تھا کہ روبلوکس کو اس لیے بلاک کیا گیا ہے کیونکہ اس میں ’نامناسب مواد کی بھرمار ہے جو بچوں کی روحانی اور اخلاقی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔‘
ماسکو سے تقریباً 2,900 کلومیٹر مشرق میں واقع شہر ٹومسک میں درجنوں افراد نے شدید سردی اور برفباری کے باوجود ولادیمیر ویسوٹسکی پارک میں ہاتھ سے بنائے گئے پلے کارڈز اٹھا کر احتجاج کیا۔
مزید پڑھیں:
منتظمین کی جانب سے فراہم کردہ تصاویر کے مطابق پلے کارڈز پر ’روبلوکس سے ہاتھ ہٹاؤ‘ اور ’روبلوکس ڈیجیٹل آہنی پردے کا شکار ہے‘ جیسے نعرے درج تھے۔
ایک پلے کارڈ پر لکھا تھا کہ پابندیاں اور بلاکنگ ہی وہ سب کچھ ہے جو تم کر سکتے ہو، تصاویر میں تقریباً 25 افراد کو برف میں دائرے کی شکل میں کھڑے ہو کر پلے کارڈز تھامے دیکھا جا سکتا ہے۔
روس میں روبلوکس پر پابندی نے سنسرشپ، بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت اور ڈیجیٹل دنیا میں پابندیوں کی مؤثریت پر بحث چھیڑ دی ہے، جہاں بچے چند کلکس میں کئی پابندیوں کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔
بہت سے روسی شہری پابندیوں سے بچنے کے لیے وی پی این استعمال کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
تاہم کچھ نوجوانوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر پابندی اتنی آسانی سے بائی پاس ہو سکتی ہے تو اس کی منطق کیا ہے، جبکہ دیگر نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ریاست کی جانب سے بند کی گئی ایپس کے مقامی روسی متبادل کیوں موجود نہیں۔
کچھ روسی والدین اور اساتذہ نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ روبلوکس بچوں کو جنسی نوعیت کے مواد تک رسائی دیتا ہے اور انہیں بالغ افراد سے رابطے کی اجازت دیتا ہے۔
مزید پڑھیں:
کیلیفورنیا کے شہر سان میٹیو میں قائم روبلوکس کو عراق اور ترکی سمیت کئی ممالک میں بھی اس خدشے کے تحت پابندی کا سامنا ہے کہ شکاری عناصر اس پلیٹ فارم کے ذریعے بچوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
کمپنی نے تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ تاہم روس میں پابندی کے نفاذ کے وقت روبلوکس نے کہا تھا کہ وہ صارفین کی حفاظت کے لیے گہرے عزائم رکھتی ہے اور بچوں کے تحفظ کے لیے ’سخت اندرونی حفاظتی نظام‘ فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھیں:
روسی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں مغربی طاقتوں کی جانب سے مسلط کی گئی ایک پیچیدہ “اطلاعاتی جنگ” اور اس کے بقول “اخلاق باختہ مغربی ثقافت” سے دفاع کے لیے سنسرشپ کی ضرورت ہے، جو روس کی “روایتی اقدار” کو کمزور کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسٹاگرام بائی پاس برفباری پلے کارڈز ٹومسک ڈیجیٹل روبلوکس روس سردی سنسرشپ فیس بک گیمنگ پلیٹ فارم ماسکو یوٹیوب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسٹاگرام بائی پاس پلے کارڈز ٹومسک ڈیجیٹل روبلوکس فیس بک گیمنگ پلیٹ فارم ماسکو یوٹیوب مزید پڑھیں پلے کارڈز پلیٹ فارم کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔