کراچی؛ ای چالان سسٹم کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
کراچی:
شہر میں ای چالان سسٹم کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیرداخلہ ضیاالحسن لنجار کی سربراہی میں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سمیت اراکین اسمبلی پر مشتمل اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی میں ٹریفک کے انتظام کے لیے متعارف کردہ ای چالان سسٹم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے، دیگر اراکین میں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی اور اراکین صوبائی اسمبلی آصف خان، فاروق اعوان، سعدیہ جاوید، افتخار عالم، طحہ احمد، شبیر قریشی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ، سیکریٹری محکمہ قانون، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کراچی رینج اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل ٹریفک پولیس رکن کے ساتھ ساتھ سیکریٹری کے طور پر شامل ہیں۔
کمیٹی کی ذمہ داری کراچی میں ٹریفک کے لیے متعارف کردہ ای چالان سسٹم 2025 کا جامع جائزہ لینا، ٹریفک جرمانوں سے متعلق پالیسی پر بھی غور کیا جائے گا اور سسٹم کو مؤثر اور صارف دوست بنانے کی سفارشات تیار کی جائیں گی اور ای چالان سسٹم کا مکمل تجزیہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چالان سسٹم کا کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :