سکھر،سیپا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا ایوان صنعت و تجارت کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251213-05-7
سکھر (نمائندہ جسارت) سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) سکھر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر گل امیر سنبل نے سکھر ایوانِ صنعت و تجارت کے دورے کے دوران ماحولیات کے تحفظ اور اس سے متعلق قوانین پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر محمد خالد کاکیزئی، سینئر نائب صدر امیت کمار، انوائرمنٹ کمیٹی کے کنوینر عرفان صمد اور دیگر اراکین موجود تھے۔ڈاکٹر گل امیر سنبل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحول کا تحفظ محض کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے، کیونکہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث عالمی موسم میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو مستقبل کے لیے خطرناک ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی ایکٹ 1997 کے تحت ماحولیات سے متعلق قوانین کا نفاذ کیا گیا، جبکہ 18ویں ترمیم کے بعد 2014 میں سیپا صوبائی سطح پر فعال ہوا۔انہوں نے آگاہ کیا کہ حال ہی میں دو میگا کنسٹرکشن منصوبوں کو این او سی جاری کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کنسٹرکشن سیکٹر ماحول دوست اقدامات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر محمد خالد کاکیزئی نے سیپا کی جانب سے کاروباری برادری کے ساتھ تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ سکھر ایوان ماحول کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے ادارے کی کوششوں کی تعریف کی اور سیپا کے ساتھ مستقبل میں مزید مشترکہ اقدامات کی امید ظاہر کی۔انوائرمنٹ کمیٹی کے کنوینر عرفان صمد نے کنسٹرکشن انڈسٹری سے وابستہ کاروباری افراد کے لیے لائسنس کے حصول سے متعلق رہنمائی فراہم کرنے کی درخواست کی، جس پر ڈاکٹر گل امیر سنبل نے بتایا کہ ماحول دوست پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے ایک مشترکہ کنسلٹنٹ کی تقرری کرکے آڈٹ کرانا مؤثر ثابت ہوسکتا ہے، جس کے بعد آسانی سے لائسنس حاصل کیا جاسکے گا۔اس موقع پر صدر خالد کاکیزئی نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تاکہ کنسٹرکشن سیکٹر کے مسائل کو منظم انداز میں حل کیا جاسکے اور سیپا کے ساتھ بہتر رابطہ کاری برقرار رہے۔دورے کے اختتام پر شرکاء نے ماحولیات کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں اور مختلف شعبوں کے باہمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔