امریکی ایوانِ نمائندگان نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 901 ارب ڈالر کا دفاعی بل منظور کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
نئے دفاعی بجٹ میں فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ، رہائش میں بہتری اور یوکرین کے لیے آئندہ دو سال میں 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد شامل ہے۔ بل میں اسرائیل کے دفاعی پروگرامز، بالخصوص آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلِنگ کے لیے مکمل فنڈنگ بھی شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 901 ارب ڈالر کا دفاعی بل منظور کر لیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق بل کے حق میں 312 اور مخالفت میں 112 ووٹ آئے، یہ بل اب سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ نئے دفاعی بجٹ میں فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ، رہائش میں بہتری اور یوکرین کے لیے آئندہ دو سال میں 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد شامل ہے۔ بل میں اسرائیل کے دفاعی پروگرامز، بالخصوص آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلِنگ کے لیے مکمل فنڈنگ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ماحولیاتی تبدیلی اور تنوع کے منصوبوں کے فنڈز میں 1.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔