امریکی ایوانِ نمائندگان نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 901 ارب ڈالر کا دفاعی بل منظور کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
نئے دفاعی بجٹ میں فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ، رہائش میں بہتری اور یوکرین کے لیے آئندہ دو سال میں 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد شامل ہے۔ بل میں اسرائیل کے دفاعی پروگرامز، بالخصوص آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلِنگ کے لیے مکمل فنڈنگ بھی شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 901 ارب ڈالر کا دفاعی بل منظور کر لیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق بل کے حق میں 312 اور مخالفت میں 112 ووٹ آئے، یہ بل اب سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ نئے دفاعی بجٹ میں فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ، رہائش میں بہتری اور یوکرین کے لیے آئندہ دو سال میں 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد شامل ہے۔ بل میں اسرائیل کے دفاعی پروگرامز، بالخصوص آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلِنگ کے لیے مکمل فنڈنگ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ماحولیاتی تبدیلی اور تنوع کے منصوبوں کے فنڈز میں 1.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔