اسلام ٹائمز: ہم بحیثیت انسان ہمیشہ قلم فروشی کے قبیح اور مضر اثرات سے نبرد آزما رہے ہیں۔ شاہ پرستی، بے جا ستائش، کذب نویسی نے آنے والی نسلوں کو فکری اور نظری اندھیروں میں داخل کیا ہے اور نسلوں کی نسلیں ان تحریوں کے شکنجے میں زندگی برباد کرکے رخصت ہوئی ہیں، انسانی تہذیب کا جتنا نقصان اس قلم فروشی نے کیا ہے، شائد ہی کسی اور چیز نے کیا ہو۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے مابین ہمیشہ فیض جیسے سر پھرے موجود رہتے ہیں، جن کا کہنا ہے: "ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے، جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے" تحریر: سید اسد عباس
خداوند کریم نے سورۃ قلم میں کی آیت نمبر ایک میں عجیب قسم کھائی "ن اور قلم کی قسم۔" قلم سے جو کچھ بھی مراد لیا جائے، تاہم اس کا ظاہری معنی بہرحال خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا۔ قلم کی قسم یہ واضح کرتی ہے کہ قلم اور تحریر کی بڑی عظمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے علم، ہدایت اور انسانی ترقی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ قلم وہ آلہ ہے، جس سے علم محفوظ ہوتا ہے، نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور انسانی تہذیب قائم ہوتی ہے۔ تحریر انسانوں کے درمیان حقوق و فرائض کو واضح کرتی ہے، اس لیے قلم انصاف کے قیام کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم سکھایا اور قلم اس علم کا سب سے اہم وسیلہ ہے۔ اسی لیے سورۃ علق میں فرمایا "جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔" شائد یہی وجہ ہے کہ ادب اور بالخصوص صحافت میں قلم کی حرمت پر بہت زور دیا جاتا ہے۔
آج لکھنے والوں پر تحقیق کے باقاعدہ علوم تشکیل پا چکے ہیں۔ علم الرجال ہمیں لکھاریوں کی صداقت، امانت اور دیانت کا علم عطا کرتا ہے۔ زیر نظر تحریر قلمبند کرنے کا سبب پاکستانی اخبارات کے کالم نویسوں کی تحریریں ہیں۔ میں ایک طویل عرصے سے پاکستان میں شائع ہونے والے اردو اور انگریزی اخبارات کے کالم نویسوں کی تحریریں دیکھ رہا ہوں، جنھیں دیکھ کر مجھے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ حرمت تحریر و قلم اب قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ یقیناً حق لکھنا ایک مشکل کام ہے، تاریخ انسانی میں بہت سے ایسے انسانوں کا تذکرہ موجود ہے، جن کی حق گوئی کے سبب انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سقراط کو نوجوانوں کو سوال سکھانے پر زہر کا پیالہ پینا پڑا، ارسطو کو حق گوئی کے سبب ایتنز سے جلاوطنی برداشت کرنی پڑی، جوردانو برونو کو چرچ نے زندہ جلا دیا، نیلسن مینڈیلا اپنی تحریروں کے سبب 27 برس قید رہے۔
مسلم مولفین میں امام احمد بن حنبل، امام ابو حنیفہ، امام مالک بن انس، امام حاکم کو حکومتی سختیوں کو برداشت کرنی پڑیں۔ انگریز دور کے لکھاریوں میں سر سید احمد خان، مہاتما گاندھی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ابو الکلام آزاد، عبد اللہ سندھی، مولانا حسین احمد مدنی، سید سلمان ندوی، پریم چند، اکبر الہ آبادی، عبد الماجد دریابادی، ڈپٹی نذیر احمد، مہر چند کھتری، بال گنگا دھر تلک، آنند موہن بوس، سبھاش چندر بوس مختلف صعوبتوں کا نشانہ بنے۔ پاکستان بننے کے بعد سید ابو الاعلی مودودی، فیض احمد فیض، حبیب جالب، جمیل الدین عالی، احمد ندیم قاسمی، جوش ملیح آبادی، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، کرشن چندر، عبد اللہ ملک، مولانا چراغ حسین حسرت، مولانا ظفر علی خان مشکلات سے دوچار رہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
تاہم جو صورتحال اس وقت پاکستانی اخبارات میں دیکھنے کو مل رہی ہے، میرے لیے حیران کن ہے۔ ویسے تو تاریخ انسانی میں قلم فروشوں کی کمی نہیں ہے، تاہم جس تعداد میں آج ہمیں قلم فروشوں کا سامنا ہے، شائد ہی کبھی رہا ہو۔ حق بات نہ کہہ سکنا یا نہ لکھ سکنا الگ بات ہے اور باطل کی خوشامد اور ترجمانی کرنا ایک الگ قصہ۔ میں کسی بھی ایسے لکھاری کا نام نہیں لکھنا چاہتا، جو دوسری صنف سے ہے، مگر ہمارے پرنٹ میڈیا پر ان کی بہتات ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ان قلم فروشوں کی علمی زندگی بہت کم ہوتی ہے اور حرمت قلم و تحریر کا پاس رکھنے والے تادیر یاد رکھے جاتے ہیں، تاہم تحریر کے آئندہ نسلوں پر اثرات سے خوف آتا ہے۔
ہم بحیثیت انسان ہمیشہ قلم فروشی کے قبیح اور مضر اثرات سے نبرد آزما رہے ہیں۔ شاہ پرستی، بے جا ستائش، کذب نویسی نے آنے والی نسلوں کو فکری اور نظری اندھیروں میں داخل کیا ہے اور نسلوں کی نسلیں ان تحریوں کے شکنجے میں زندگی برباد کرکے رخصت ہوئی ہیں، انسانی تہذیب کا جتنا نقصان اس قلم فروشی نے کیا ہے، شائد ہی کسی اور چیز نے کیا ہو۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے مابین ہمیشہ فیض جیسے سر پھرے موجود رہتے ہیں، جن کا کہنا ہے:
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے رہیں گے کیا ہے ہے اور نے کیا
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔