لاہور (لیڈی رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی ہیومن رائٹس چیئر کے زیر اہتمام انسانی حقوق کے عالمی دن پر قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس میں پرو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر خالد محمود، سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، صدر اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن ڈاکٹر امجد عباس مگسی، ڈاکٹر بشریٰ رحمن، چیئر ہیومن رائٹس ڈاکٹر عابدہ اشرف، معروف قانون دان احمر بلال صوفی اور ڈاکٹر مجاہد گیلانی سمیت مختلف جامعات کے اساتذہ، طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے خلاف سڈنی، واشنگٹن، لندن اور دنیا کے دیگر شہروں میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر آئے لیکن افسوس کہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں اس پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ فلسطین میں نسل کشی کے خلاف دنیا کے ہر فورم پر آواز بلند ہوئی، مگر سوال یہ ہے کہ جب سب لوگ مظالم کا اعتراف کر رہے ہیں تو امریکہ اسے ویٹو کیوں کرتا ہے۔ اگر کشمیر اور فلسطین پر ظلم نہیں رک سکتا تو ایسی اقوام متحدہ کی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے۔ ہم کشمیر اور فلسطین کے لیے جو کچھ کر رہے ہیں وہ ناکافی ہے، یہ ذمہ داری صرف ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی ہے۔ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ خطبہ حجتہ الوداع انسانی حقوق کی بنیاد ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے لیے آواز بلند کرنا فرض ہے، ہم اپنے گھر سے شروع کریں اور خود کسی ظلم کا حصہ نہ بنیں۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ اقوام متحدہ تقاریر کرنے کا ایک کلب بن چکا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی قراردادیں کہاں ہیں، اسی ہزار لوگ فلسطین میں شہید ہوئے لیکن طاقتور ممالک نے تماشا دیکھا۔ احمر بلال صوفی نے کہا کہ انسانی حقوق پر دنیا کے تمام اقوام متفق ہیں۔ جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزیاں کشمیر میں ہو رہی ہیں، بھارت میں تمام اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک ہو رہا ہے یہ دنیاکی واحد ریاست ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اپناتی ہے اور اکھنڈ بھارت کا نعرہ عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ڈاکٹر مجاہد گیلانی نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہر طرح کا ظلم مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر امجد مگسی نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹر بشریٰ رحمن نے کہا کہ ہیومن رائٹس چیئر گزشتہ چار سالوں سے انسانی حقوق کے حوالے سے آگاہی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے اور جہاں کہیں استحصال ہو رہا ہو اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہیے۔ ڈاکٹر عابدہ اشرف نے کہا کہ عالمی طاقتوں نے کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے، انسانیت و مساوات کا پیغام عالمی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کشمیر اور فلسطین اقوام متحدہ فلسطین میں نے کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم