امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ نے سہ فریقی سلامتی شراکت داری کے عزم کی تجدید کی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے وزرائے دفاع نے بدھ کو اپنے تین ملکی دفاعی اور سکیورٹی معاہدے امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ (AUKUS ) میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا عزم دہرایا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے آسٹریلیا کے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر دفاع رچرڈ مارلس اور برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی کو پنٹاگون میں سالانہ AUKUS وزرائے دفاع کی ملاقات کے لیے خوش آمدید کہا۔
اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع نے کہا کہ معاہدے کے تحت سب میرینز کی تیاری، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور فوجی تربیت میں تعاون تیز کیا جائے گا تاکہ خطے میں دفاع مضبوط اور طویل مدتی سکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ AUKUS کے پہلے ستون میں سب میرین تعاون کو اہمیت دی گئی ہے تاکہ مضبوط ہتھیاروں کے ذریعے ڈٹ کر دفاع کیا جا سکے جبکہ دوسرے ستون میں جدید صلاحیتوں کی ترقی اور فوری جنگی مقاصد پر توجہ مرکوز رہے گی۔
یاد رہے کہ AUKUS معاہدہ ستمبر 2021 میں ہوا، جس کے تحت آسٹریلیا کو ورجینیا کلاس کے نیوکلیئر طاقت والے سب میرینز فراہم کیے جائیں گے، جن کی ترسیل کا آغاز 2032 میں متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔