اسلام آباد (آئی این پی، خبرنگار) پاکستان اور ایران نے  قریبی مشاورت سے  علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط  بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے   ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، دونوں رہنمائوں نے پاک ایران دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔دفتر خارجہ کے مطابق اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر ہونے والی حالیہ اعلی سطحی ملاقاتوں اور رابطوں کو سراہا، گفتگو میں خطے کے امن، اقتصادی تعاون، سرحدی امور اور مشترکہ علاقائی چیلنجز پر بھی بات چیت ہوئی۔اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران قریبی مشاورت کے ذریعے علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔اس موقع پر دونوں رہنمائوں  نے اس ہفتے ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں ہونے والے انٹرنیشنل فورم آف پیش اینڈ ٹرسٹ میں ایک دوسرے سے ملاقات کی امید بھی ظاہر کی۔وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد سے خبر نگار خصوصی کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (یو ڈی ایچ آر) کی منظوری کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور تمام انسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار