پاک چین تعلقات خطے کے امن اور ترقی کی بنیاد ہیں، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-8-2
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے زور دیا ہے کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا موقع شایانِ شان طریقے سے منایا جائے۔وزارتِ خارجہ میں سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت پاکستان چین تعلقات کے فروغ سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام شعبوں میں پاک چین شراکت داری، مشترکہ منصوبوں اور مستقبل کے تعاون پر بریفنگ دی گئی، کمیٹی نے اس تاریخی سنگِ میل کو بھرپور انداز میں اجاگر کرنے اور دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے زور دیا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا موقع شایانِ شان طریقے سے منایا جائے، پاک چین تعلقات خطے کے امن، ترقی اور اقتصادی شراکت داری کی بنیاد ہیں اور اس اہم موقع کو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عوامی روابط کے فروغ کے لیے بھی موثر انداز میں منایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔