قبول ہے سے سات پھیرے تک؛ سارہ خان کی کرش پاٹھک سے دوسری شادی، تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
بھارتی ٹی وی انڈسٹری کی مقبول اداکارہ سارہ خان نے کرش پاٹھک سے دوسری شادی کرلی جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اکتوبر میں دونوں کی کورٹ میرج ہوئی تھی جس کے بعد دسمبر میں باقاعدہ شادی کی تقریبات منعقد کی گئیں اور اس موقع پر خوبصورت تصاویر لی گئیں۔
نوبیاہتا جوڑے نے اپنی دلکش شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ سارہ اور کرش نے شادی کی تقریبات میں ہندو رسومات کے ساتھ نکاح کی تقریب بھی رکھی۔
نوبیاہتا جوڑے نے ہندو رسومات کے لیے سرخ روایتی ملبوسات کا انتخاب کیا جبکہ نکاح کی تقریب میں سفید چمکدار لباس نے ان کی جوڑی کو نہایت خوبصورت انداز بخشا۔
View this post on Instagramجوڑے نے تصاویر کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ قبول ہے سے سات پھیرے تک، ہماری محبت نے خود اپنی کہانی لکھی اور دونوں جہانوں نے ہاں کہہ دی۔
سارہ خان نے شادی کے بعد ریسپشن کی تصاویر بھی جاری کیں جن میں وہ اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ خوشگوار موڈ میں نظر آ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ سارہ خان کی یہ دوسری شادی ہے۔ اس سے قبل وہ اداکار علی مرچنٹ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک تھیں، تاہم ایک سال بعد ہی دونوں کے درمیان میں طلاق ہو گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔