جسٹن ٹروڈو کی اپنی امریکی گلوکارہ دوست کیساتھ جاپان میں سیرسپاٹوں کی تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
کینیڈا کی سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور ان کی امریکی گلاکوراہ دوست کیٹی پیری کی جاپان میں سیر سپاٹے کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوگئیں جس نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی۔
کینیڈا کے سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو اور عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ کیٹی پیری ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے۔
کیٹی پیری نے انسٹاگرام پر جاپان ٹرپ کی تصاویر شیئر کی ہیں تو مداحوں کی نظریں سیدھی اس ایک تصویر پر جا ٹھہریں۔
یہ ایک سیلفی ہے جس میں کیٹی اور سابق کینیڈی وزیراعظم ایک دوسرے کے گلے میں بازو ڈالے ہنستے مسکراتے دکھائی دیے۔
دونوں نے جاپان کے معروف ریسٹورینٹ میں سوشی کھاتے ہوئے ویڈیو بھی اپ وڈ کی۔ بس پھر کیا تھا۔ سوشل میڈیا نے تبصروں کا تانتا بندھ گیا۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ یہ دونوں اب صرف دوست نہیں رہے پیں بلکہ بات اس سے کچھ آگے بڑھ چکی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے جب جوڑے کو کسی تفریحی مقام پر یوں سیر سپاٹے کرتے دیکھا گیا ہو۔ دونوں اکثر ایک ساتھ نظر آتے رہتے ہیں۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں نے اپنی اس خاص الخاص دوستی پر اب تک کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا اور نہ ہی انکار کیا ہے۔
جسٹن ٹروڈو نے بھی کچھ دن پہلے ایک تصویر ری پوسٹ کی تھی جس میں وہ کیٹی پیری کے ساتھ سابق جاپانی وزیرِاعظم فومیو کشیدا اور ان کی اہلیہ سے ملتے نظر آئے تھے۔
یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا۔ کیٹی پیری کی 41ویں سالگرہ پر پیرس کی گلیوں سے لیک ہونے والی تصاویر میں دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چہل قدمی کرتے دکھائی دیے۔
دونوں کے ترجمانوں نے بھی اس خوشگوار ملاقات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس سے افواہیں مزید زور پکڑتی جارہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں حال ہی میں اپنی ازدواجی زندگیوں کے الگ الگ مگر جذباتی باب بند کر چکے ہیں۔
کیٹی پیری نے رواں سال جون میں اورلینڈو بلوم سے اپنی منگنی ختم کی ہے جس سے ان کی بیٹی بھی ہے۔
اسی طرح جسٹن ٹروڈو نے اگست 2023 میں اپنی اہلیہ سوفی گریگوئر سے 18 سالہ رفاقت کو خیرباد کہا ہے۔ اُن کے تین بچے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جسٹن ٹروڈو کیٹی پیری
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔