WE News:
2026-06-02@23:04:58 GMT

ایم کیو ایم میں دھڑے بندی، کیا پارٹی مجبوری کے تحت متحد ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT

ایم کیو ایم میں دھڑے بندی، کیا پارٹی مجبوری کے تحت متحد ہے؟

ایم کیو ایم پاکستان کی دھڑے بندی یا مختلف گروپس کی کہانی خاصی پیچیدہ اور پرانی ہے جو کہ پارٹی کے بانی کی بیرون ملک سے لاتعلقی کے بعد زیادہ شدت اختیار کر گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار پر حملہ، ’یہ سیاست چمکانے آئے ہیں‘، شہریوں کا الزام

اصولی طور پر ایم کیو ایم پاکستان میں اتحاد کی کوششیں مرکزی دھڑے بندی پر سبقت لے چکی ہیں لیکن اندرونی طور پر اختلافات اور رسہ کشی اب بھی موجود رہتی ہے۔

اس وقت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کنوینیئر اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری اہم ترین رہنماؤں میں شامل ہیں جبکہ سابق میئر کراچی اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار بھی پارٹی میں اہم مقام حاصل کر چکے ہیں ایم کیو ایم مرکز بہادر آباد ایک مرکزی پارٹی ہے جو عام انتخابات اور حکومتی اتحاد کا حصہ رہی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد کے مطابق ایم کیو ایم کی حالیہ سرگرمیوں میں کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دینے یا نئے صوبوں کا مطالبہ شامل ہے جس کا مقصد سندھ کے شہری علاقوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کے فیصلے سمجھ سے بالاتر، پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی قابل مذمت ہے، ایم کیو ایم

ان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار دیکھنے میں آیا ہے کہ پارٹی کے اندرونی اجلاسوں، تنظیمی تبدیلیوں اور فیصلوں پر سینیئر رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے اختلافات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 2023 میں ایم کیو ایم پاکستان، پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) اور تنظیم بحالی کمیٹی جس کی قیادت ڈاکٹر فاروق ستار کرتے تھے نے مل کر دوبارہ ایک ہونے کا اعلان کیا تھا۔ وہ دراصل سندھ کے شہری علاقوں میں اپنی کمزور ہوتی سیاسی قوت کو بحال کرنے کی ایک بڑی کوشش تھی۔

ضم ہونے کے بعد مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار دونوں کو ایم کیو ایم پاکستان کے اہم عہدے دیے گئے جس سے یہ تینوں دھڑے ایک مرکزی جماعت کا حصہ بن گئے۔ تاہم اندرونی طور پر اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں اور تنظیمی ڈھانچے میں اہم عہدوں کے لیے ردو بدل اور کشمکش کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے مختلف دھڑے نہ بھی چاہیں تب بھی ان کا ساتھ رہنا مجبوری بن چکا ہے۔

جہاں تک دھڑوں کی بات ہے تو یہ اپنی طاقت دکھاتے بھی رہیں گے اور کارکنوں کے ذریعہ دباؤ بھی بڑھاتے رہیں گے تا کہ ہر دھڑا پارٹی پر اپنی گرفت قائم کر سکے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما و ممبر قومی اسمبلی حسان صابر کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم میں کوئی اختلافات نہیں ہیں نظریاتی طور پر سب اکٹھے ہیں لیکن گروپ بندیاں کون سی سیاسی جماعت میں نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ایم کیو ایم کے حوالے سے ایسا کچھ ہوتا ہے تو یو ٹیوبرز وی لاگ بنانے بیٹھ جاتے ہیں کیوں کہ انہیں ویوز ملتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ کی تقسیم کا معاملہ ایک بار پھر سر اٹھانے لگا، ایم کیو ایم کیا چاہتی ہے؟

حسان صابر کے مطابق پالیسی پر یا کچھ فیصلوں پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایم کیو ایم قیادت میں کوئی گہری خلیج ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ہونے والی پریس کانفرنس اس بات کے ثبوت ہے کہ خالد مقبول صدیقی کے ساتھ مصطفیٰ کمال سمیت پوری لیڈر شپ نظر آرہی ہے۔

حسان صابر کا کہنا ہے کہ یوٹیوبر اس پر اپنی ویوز بٹورتے رہیں لیکن ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں متحد ہے اور رہے گی، ایم کیو ایم ایک جمہوری جماعت ہے اور اس میں ہر ممبر کو اختلاف رائے رکھنے کا پورا حق بھی ہے اور موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم مشکل حالات سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہے اور ان حالات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم وفد کی ملاقات، 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لوگ ہم پر تنقید کرتے ہیں جسے ہم کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ  ایم کیو ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایم کیو ایم ایم کیو ایم پاکستان ایم کیو ایم میں اختلافات ایم کیو ایم میں دھڑے بندی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم ایم کیو ایم پاکستان ایم کیو ایم میں اختلافات ایم کیو ایم پاکستان ایم کیو ایم میں کہ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ فاروق ستار دھڑے بندی ہیں لیکن انہوں نے ہے اور کہا کہ

پڑھیں:

شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔

کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔

دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔

پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔

شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود