Express News:
2026-07-24@11:16:08 GMT

خواب اندر خواب

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ بات کہاں سے شروع کروں، کیسے شروع کروں یا کہوں بھی کہ نہ کہوں

 زخم چاہت نے تری اتنے دیے ہیں مجھ کو

 سوچتا ہوں کہ کہوں تم سے کہ خاموش رہوں

 کیوں کہ ایک تو میری سمجھ دانی بہت چھوٹی ہے اوردوسری یہ بات بہت بڑی ہے اسے محاورہ میں چھوٹا منہ اوربڑی بات بھی کہتے ہیں ؎

تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی

 اک خواب سادیکھا ہے تعبیر نہیں بنتی

 بات واقعی ایک خواب کی ہے لیکن یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ خواب ہم نے خود بچشم خود اور بہ چشمہ خود دیکھا ہے یاکسی اور نے دیکھ کر ہمیں بزبان غیر دہان غیر اوردربیان غیر سنایا ہے ، بہرحال پیٹ پھول رہا ہے اگر اس پریشر ککر کا والو نہیں کھولا تو دھماکا ہونے کا خطرہ ہے لیکن بات’’ سیٹی ‘‘میں کرنے کی ہے ؎

بہ بانگ جنگ می گوئم آں حکایت ہا

 کہ ازتہفتن آں دیگ سینہ می زد جوش

تو لیئجے سنئیے افسانہ خواب ہم سے

 ہم نے دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان ہے ، تپتا ہوا ریگستان ہے، اس میں ایک کارواں ہے جو رواں دواں ہے لیکن اس میں ہرکوئی پریشان ہے کیوں کہ بھوک ہے، پیاس ہے ،نالاں اورتھکان سے بے جان میں خود بھی اس کاروان میں شامل ہوں ، اندر باہرسے گھائل ہوں کیوں کہ جاہل ہوں، اس لیے کہ عوام ہوں ،کالانعام ہوں ،بے نام ہوں اور ناکام ہوں ۔

ہمارے آگے گھڑسوار ہیں جن کے گھوڑے بھی شاندار ہیں، لباس بھی چمک دار ہیں اورسب کے سروں پر دستار ہیں یعنی سردار اور سالارہیں، جب کہ ہم پیچھے کارواں والے پاپیادہ ہیں افتادہ ہیں، زندہ کم اور مردے زیادہ ہیں ، پھر اچانک آگے والے گھڑسوار یعنی سردار وسالار پکارپکار اورخوشی سے سرشار ہوکر گفتارکرتے ہیں ۔

مل گیا مل گیا سبزباغ مل گیا

 وہ دیکھ سامنے نظر آرہا ہے ، جلوے دکھا رہا ہے ، لہلہا رہا ہے اور ہمیں بلا رہا ہے ۔ تھوڑی دیر میں ہم سبزباغ کے سونے کے دروازے پر کھڑے تھے جس میں ہیرے موتی جڑے تھے لیکن اس میں تالے پڑے تھے جو بڑے بڑے تھے ۔ آخر کار کافی انتظار ، خرابی بسیار اورچیخ وپکار کے بعد دروازے کھل گئے لیکن یہ کیا؟ صرف گھوڑوں والے سردار سالار اورسرکار لوگ اندر جاسکتے تھے، کوئی عامی، امی، کمی کمین اگر اندر جانے کا قصد کرتا تھا تو کوئی غیبی طاقت اسے پیچھے دھکیل دیتی تھی ۔ یوں سارے سردار سرکار گھڑ سوار سبزباغ کے اندرون ہوگئے ، مشکورومامون ہوگئے اورممنون ہوگئے لیکن جو عامی شمی بیرون رہ گئے۔ وہ رونے لگے ، چلانے لگے، دہائیاں اور آنسو بہانے لگے ،اتنے میں ایک غیبی آواز آنے لگی، ہرطرف لہرانے لگی اوران خدا ماروں کو بتانے لگی، سمجھانے لگی بلکہ ڈرانے لگی ۔

ہرسماع راست ہرکس چیرنیست

طمعہ ہر مرغکے انجیر نیست

باغ کے بائیں طرف جاؤ اورپاؤ ایک اوردروازہ اوراس کے اندر جاؤ کہ وہی تمہاری جائے قیام ہے، طعام ہے اورآلام ہے ۔ ہم دوڑ کر گرتے پڑتے لڑتے جھگڑتے اس دروازے میں داخل ہوگئے، دیکھا تو ہر طرف ایک صحرا ہے، دشت وبیابان ہے جنگل نیستان ہے، ہرسو ویرانی ہی ،ویرانی عیاں ہے۔ لیکن سب سے خاردار کوڑے بردار وہ پہرے دار تھے جو طرح طرح کے لباسوں میں قطار اندر قطار تھے ،ان پہرہ داروں نے کوڑے لہرا لہرا کر ،مارمارکر ہمیں گروہوں میں تقسیم کیا۔

ایک گروہ تو وسیع وعریض کھیتوں میں کھیتی باڑی پر لگایا ، پھنسایا اورسمجھایا کہ یہاں تم خود ہی ہل کھینچو گے ، کھیت سینچو گے اور پیداوار ہوگی اسے احتیاط سے جودہی گاڑی اور بیل بن کر کچھ سبزباغ کے دروازے پر پہنچاؤ گے اورخبردار اگر اس میں کچھ خود کھاؤ گے تو سزا پاؤ گے اورمرجاؤ گے ، تمہارا کھاجا صرف سوکھی روٹی کے ساتھ لہسن، مولی اورپیاز ہے اورایک چڈی بنیان تمہارا لباس ہے ۔دوسرے گروہ کو ایک پہاڑ کے دامن میں بے شمار کنوؤں پر پہنچایا گیا ،کام پر لگایا گیا اورسمجھایا گیا کہ کس طرح تم کوان کنوؤں سے پانی کھینچنا ہے اوراس نہرمیں ڈالنا ہے جو سبزباغ  کے اندر جاتی ہے ۔تیسرے گروہ کو ایک وسیع وعریض چراگاہ میں لے جایا گیا جہاں ان کاکام بے شمار جانوروں کو چرا کر ان کا دودھ دوہنا اوراس دودھ کو نہرمیں ڈالنا تھا جو سبز باغ کی طرف بہتا تھا۔

چوتھے بدنصیب گروہ کو جنگل نشین کیاگیا ، کوڑے مار مارکر اچھی طرح نرم ومہین کردیاگیا اورمشرف بہ تلقین کیاگیا کہ تمہیں اس جنگل میں رہنا ہے ، سہنا ہے اورکچھ بھی نہیں کہنا ہے، صرف کرنا یہ ہے جنگل میں پھر شہد کے چھتے توڑوگے اورشہدکو اس نہرمیں چھوڑوگے پھر شہد خود اس نہرمیں سبزباغ کی طرف بہے گا اورباغ والوں کا رہے گا۔یہاؒں بھی وہی ہدایات ، تاکیدات بلکہ تنبیہات جاری کردی گئیں کہ جو دوسرے مقامات پر جاری کی گئی تھیں ،عطاری کردی گئی تھیں اور آئین وقانون سرکاری کردی گئی تھیں کہ اگر پانی کو، دودھ کو اورشہد کو چکھا بھی تو اسے الٹا لٹکا کر اس وقت تک کوڑے مارے جائیں گے جب تک اس کا ساراکھایا پیا باہرنہیں آجائے گا۔

لیکن مجھ سے ایک دن غلطی ہوگئی نادانی ہوگئی تو یہ نافرمانی ہوگی۔ میں نے دیکھا کہ قرب وجوار میں کوئی کوڑے دار خونخوار پہرے دار نہیں ہے تو نہرسے غٹاغٹ دودھ پینے لگا کہ قیامت ٹوٹ پڑی ، میں یہ بھول گیا تھا کہ کچھ پہرے دار نادیدہ بھی ہوتے ہیں، نظر نہیں آتے لیکن ہم پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ مجھے الٹا لٹکاکر کوڑے مارے جانے لگے اورپھر میں نے ایک چیخ ماری اورمرگیا لیکن چیخ کے ساتھ آنکھ کھلی تو میں تھانے میں تھا، مجھ پر الزام تھا کہ میں نے ٹیکس چوری کیا ہے اورپولیس والے میرے اندر سے ٹیکس نکال رہے تھے ، اب میری سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا ہے کہ وہ خواب تھا جو میں نے دیکھا یا وہ زندگی تھی اورخواب یہ ہے کہ جو میں اب دیکھ رہا ہوں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا رہا ہے نہیں ا ہے اور نے لگی گے اور

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف