Express News:
2026-06-03@07:26:08 GMT

خواب اندر خواب

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ بات کہاں سے شروع کروں، کیسے شروع کروں یا کہوں بھی کہ نہ کہوں

 زخم چاہت نے تری اتنے دیے ہیں مجھ کو

 سوچتا ہوں کہ کہوں تم سے کہ خاموش رہوں

 کیوں کہ ایک تو میری سمجھ دانی بہت چھوٹی ہے اوردوسری یہ بات بہت بڑی ہے اسے محاورہ میں چھوٹا منہ اوربڑی بات بھی کہتے ہیں ؎

تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی

 اک خواب سادیکھا ہے تعبیر نہیں بنتی

 بات واقعی ایک خواب کی ہے لیکن یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ خواب ہم نے خود بچشم خود اور بہ چشمہ خود دیکھا ہے یاکسی اور نے دیکھ کر ہمیں بزبان غیر دہان غیر اوردربیان غیر سنایا ہے ، بہرحال پیٹ پھول رہا ہے اگر اس پریشر ککر کا والو نہیں کھولا تو دھماکا ہونے کا خطرہ ہے لیکن بات’’ سیٹی ‘‘میں کرنے کی ہے ؎

بہ بانگ جنگ می گوئم آں حکایت ہا

 کہ ازتہفتن آں دیگ سینہ می زد جوش

تو لیئجے سنئیے افسانہ خواب ہم سے

 ہم نے دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان ہے ، تپتا ہوا ریگستان ہے، اس میں ایک کارواں ہے جو رواں دواں ہے لیکن اس میں ہرکوئی پریشان ہے کیوں کہ بھوک ہے، پیاس ہے ،نالاں اورتھکان سے بے جان میں خود بھی اس کاروان میں شامل ہوں ، اندر باہرسے گھائل ہوں کیوں کہ جاہل ہوں، اس لیے کہ عوام ہوں ،کالانعام ہوں ،بے نام ہوں اور ناکام ہوں ۔

ہمارے آگے گھڑسوار ہیں جن کے گھوڑے بھی شاندار ہیں، لباس بھی چمک دار ہیں اورسب کے سروں پر دستار ہیں یعنی سردار اور سالارہیں، جب کہ ہم پیچھے کارواں والے پاپیادہ ہیں افتادہ ہیں، زندہ کم اور مردے زیادہ ہیں ، پھر اچانک آگے والے گھڑسوار یعنی سردار وسالار پکارپکار اورخوشی سے سرشار ہوکر گفتارکرتے ہیں ۔

مل گیا مل گیا سبزباغ مل گیا

 وہ دیکھ سامنے نظر آرہا ہے ، جلوے دکھا رہا ہے ، لہلہا رہا ہے اور ہمیں بلا رہا ہے ۔ تھوڑی دیر میں ہم سبزباغ کے سونے کے دروازے پر کھڑے تھے جس میں ہیرے موتی جڑے تھے لیکن اس میں تالے پڑے تھے جو بڑے بڑے تھے ۔ آخر کار کافی انتظار ، خرابی بسیار اورچیخ وپکار کے بعد دروازے کھل گئے لیکن یہ کیا؟ صرف گھوڑوں والے سردار سالار اورسرکار لوگ اندر جاسکتے تھے، کوئی عامی، امی، کمی کمین اگر اندر جانے کا قصد کرتا تھا تو کوئی غیبی طاقت اسے پیچھے دھکیل دیتی تھی ۔ یوں سارے سردار سرکار گھڑ سوار سبزباغ کے اندرون ہوگئے ، مشکورومامون ہوگئے اورممنون ہوگئے لیکن جو عامی شمی بیرون رہ گئے۔ وہ رونے لگے ، چلانے لگے، دہائیاں اور آنسو بہانے لگے ،اتنے میں ایک غیبی آواز آنے لگی، ہرطرف لہرانے لگی اوران خدا ماروں کو بتانے لگی، سمجھانے لگی بلکہ ڈرانے لگی ۔

ہرسماع راست ہرکس چیرنیست

طمعہ ہر مرغکے انجیر نیست

باغ کے بائیں طرف جاؤ اورپاؤ ایک اوردروازہ اوراس کے اندر جاؤ کہ وہی تمہاری جائے قیام ہے، طعام ہے اورآلام ہے ۔ ہم دوڑ کر گرتے پڑتے لڑتے جھگڑتے اس دروازے میں داخل ہوگئے، دیکھا تو ہر طرف ایک صحرا ہے، دشت وبیابان ہے جنگل نیستان ہے، ہرسو ویرانی ہی ،ویرانی عیاں ہے۔ لیکن سب سے خاردار کوڑے بردار وہ پہرے دار تھے جو طرح طرح کے لباسوں میں قطار اندر قطار تھے ،ان پہرہ داروں نے کوڑے لہرا لہرا کر ،مارمارکر ہمیں گروہوں میں تقسیم کیا۔

ایک گروہ تو وسیع وعریض کھیتوں میں کھیتی باڑی پر لگایا ، پھنسایا اورسمجھایا کہ یہاں تم خود ہی ہل کھینچو گے ، کھیت سینچو گے اور پیداوار ہوگی اسے احتیاط سے جودہی گاڑی اور بیل بن کر کچھ سبزباغ کے دروازے پر پہنچاؤ گے اورخبردار اگر اس میں کچھ خود کھاؤ گے تو سزا پاؤ گے اورمرجاؤ گے ، تمہارا کھاجا صرف سوکھی روٹی کے ساتھ لہسن، مولی اورپیاز ہے اورایک چڈی بنیان تمہارا لباس ہے ۔دوسرے گروہ کو ایک پہاڑ کے دامن میں بے شمار کنوؤں پر پہنچایا گیا ،کام پر لگایا گیا اورسمجھایا گیا کہ کس طرح تم کوان کنوؤں سے پانی کھینچنا ہے اوراس نہرمیں ڈالنا ہے جو سبزباغ  کے اندر جاتی ہے ۔تیسرے گروہ کو ایک وسیع وعریض چراگاہ میں لے جایا گیا جہاں ان کاکام بے شمار جانوروں کو چرا کر ان کا دودھ دوہنا اوراس دودھ کو نہرمیں ڈالنا تھا جو سبز باغ کی طرف بہتا تھا۔

چوتھے بدنصیب گروہ کو جنگل نشین کیاگیا ، کوڑے مار مارکر اچھی طرح نرم ومہین کردیاگیا اورمشرف بہ تلقین کیاگیا کہ تمہیں اس جنگل میں رہنا ہے ، سہنا ہے اورکچھ بھی نہیں کہنا ہے، صرف کرنا یہ ہے جنگل میں پھر شہد کے چھتے توڑوگے اورشہدکو اس نہرمیں چھوڑوگے پھر شہد خود اس نہرمیں سبزباغ کی طرف بہے گا اورباغ والوں کا رہے گا۔یہاؒں بھی وہی ہدایات ، تاکیدات بلکہ تنبیہات جاری کردی گئیں کہ جو دوسرے مقامات پر جاری کی گئی تھیں ،عطاری کردی گئی تھیں اور آئین وقانون سرکاری کردی گئی تھیں کہ اگر پانی کو، دودھ کو اورشہد کو چکھا بھی تو اسے الٹا لٹکا کر اس وقت تک کوڑے مارے جائیں گے جب تک اس کا ساراکھایا پیا باہرنہیں آجائے گا۔

لیکن مجھ سے ایک دن غلطی ہوگئی نادانی ہوگئی تو یہ نافرمانی ہوگی۔ میں نے دیکھا کہ قرب وجوار میں کوئی کوڑے دار خونخوار پہرے دار نہیں ہے تو نہرسے غٹاغٹ دودھ پینے لگا کہ قیامت ٹوٹ پڑی ، میں یہ بھول گیا تھا کہ کچھ پہرے دار نادیدہ بھی ہوتے ہیں، نظر نہیں آتے لیکن ہم پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ مجھے الٹا لٹکاکر کوڑے مارے جانے لگے اورپھر میں نے ایک چیخ ماری اورمرگیا لیکن چیخ کے ساتھ آنکھ کھلی تو میں تھانے میں تھا، مجھ پر الزام تھا کہ میں نے ٹیکس چوری کیا ہے اورپولیس والے میرے اندر سے ٹیکس نکال رہے تھے ، اب میری سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا ہے کہ وہ خواب تھا جو میں نے دیکھا یا وہ زندگی تھی اورخواب یہ ہے کہ جو میں اب دیکھ رہا ہوں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا رہا ہے نہیں ا ہے اور نے لگی گے اور

پڑھیں:

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔

بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔

بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس  ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں

خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔

ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری  مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔

یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔

نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔

دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں  نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔

واپس لاہور آتے ہیں۔

آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ،  گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔

ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔

آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟

مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود